آغازِ کلام
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۵۰ میں ہوئی۔ نئی دہلی (رام لیلا گراؤنڈ) میں انھوں نے ورلڈ فیلو شپ آف ریلیجنز کا اجلاس کیا تھا۔ اس موقع پر مجھے ایک پیپر پیش کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کے بعد چند بار کانفرنسوں میں ملاقات ہوئی۔ شأنتی یا ترا (دسمبر ۱۹۹۲) میں ان سے بہت قربت ہوگئی۔ نئی دہلی میں انھوں نے "اچاریہ سوشیل کمار آشرم بنایا تھا۔ ایک بار میں ان کے دفتر میں تھا۔ کمرہ میں اس وقت صرف اچاریہ جی، سوامی چید آنند اور راقم الحروف تھے۔ میں اچاریہ جی سے قومی ایکتا سے متعلق کسی معاملہ پر بات کر رہا تھا۔ اتنے میں کسی کا ٹیلیفون آگیا۔ انھوں نے بات کرنے کے لئے ریسیور اٹھایا تو میں نے ریسیور ان کے ہاتھ سے چھین لیا۔ میں نے کہا کہ اتنے ضروری مسئلہ پر میں آپ سے بات کرنے آیا ہوں اور آپ ٹیلیفون اٹینڈ کر رہے ہیں۔ اچاریہ جی کی زندگی میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے ان کے ساتھ ایسی حرکت کی۔ مگر اچاریہ جی ذرا بھی غصہ نہیں ہوئے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا: خاں صاحب اس وقت شنکر کے روپ میں ہیں۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۳ آج میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ایک سیمینار میں شریک ہوا۔ وہاں جسٹس سہانے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ انگریزوں نے اپنے ۹۰ سالہ دور حکومت (۱۸۵۸-۱۹۴۷) میں تقریباً پانچ سو قانون بنائے تھے۔ معر آزادی کے بعد اس کی نصف مدت (۱۹۴۷-۱۹۹۲) میں ہماری قومی حکومت نے پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالے۔ قانون کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ ہر قانون میں کچھ نہ کچھ منضر یار خنہ (loop-hole) ہوتا ہے۔ اس لئے جتنے زیادہ قانون بنیں گے اتنے ہی زیادہ رخنے بڑھتے جائیں گے اور مجرمین کے لئے یہ امکان بڑھتا جائے گا کہ وہ کسی ذہین وکیل کی خدمات حاصل کر کے قانون کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد عملاً یہی ہو رہا ہے۔ قوانین کے اضافہ نے جرائم کو بڑھا دیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ مجرمین کے لئے قانون کی پکڑ سے بچنا آسان تر ہو گیا ہے۔ اچھے سماجی نظام کا راز قانون کا کم ہونا ہے نہ کہ قانون کا زیادہ ہونا۔ ہمارا اصل مسئلہ قانون کی کمی نہیں ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون کے باوجود مجرم کو سزا نہیں ملتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader