آغازِ کلام
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
مولاناشکیل احمد قاسمی نے بتایا کہ مولاناعلی میاں نے اپنی کتاب ’’ نئے دور پرانے چراغ‘‘ میں لکھا ہے کہ تقیسم ۱۹۴۷ سے پہلے ایک بارمولانا سید سلیمان ندوی ڈھاکہ یونیورسٹی میں بلائے گئے۔ وہاں انھوں نے ایک مقالہ پڑھا۔ اس مقالہ میں انھوں نے بتایا کہ بنگلہ زبان پہلے اردو رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ بعد کو ہندی رسم الخط اختیار کر لیا گیا۔ اب اگر آپ لوگ دوبارہ اردو رسم الخط اختیار کر لیں تو آپ اسلامی تہذیب سے قریب ہو جائیں گے۔ اس سے وسیع تر اسلامی قومیت کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ یونیورسٹی ہال میں جو مسلمان طلبہ جمع تھے وہ پھراٹھے۔ انھوں نے مولانا سید سلیمان ندوی کی سخت توہین کی۔ حتیٰ کہ ان کے اوپر پتھر پھینکے۔ بڑی مشکل سے ان کو ہال کے باہر لایا گیا۔ اس طرح کے کثیر واقعات کے با وجود علامہ اقبال، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور خود مولاناسید سلیمان ندوی نے ملک کو تقسیم کر کے پاکستان بنانے کی حمایت کی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ زوال یافتہ اور جذباتی مسلمان جو طرح طرح کی عصبیتوں میں مبتلا ہیں وہ سیاسی اقتدار پا کر اور بگڑیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کے بعد وہ اسلامی نظام بنانے میں منہمک ہو جائیں۔ ۲۵ اپریل ۱۹۹۳ ام السلام اپنے تین بچوں کو لے ۲۲ اپریل کو آئی ہیں۔ ۲۷ اپریل کی صبح کو چلی جائیں گی۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی بھی مصیبت سے خالی نہیں۔ کسی کو ایک قسم کی مصیبت سے اور کسی کو دوسرے قسم کی۔ یہ خود خدا کی تخلیق کی بنا پر ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لقد خلقنا الانسان فی کبد ( ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے) انسان کی کامیابی نہیں ہے کہ وہ دنیا میں آرام کی زندگی حاصل کرلے، کیوں کہ وہ تو ممکن ہی نہیں۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت کے آرام کو پالے جو حقیقی بھی ہے اور ابدی بھی۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ لا يصح القول الا بالعمل (عمل کے بغیر قول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader