Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

درست نہیں، یہ کمزوری پہلے زمانے کے انسان میں تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں پریس اور پلیٹ فارم کی ایجاد نے اس برائی کو آخری درجہ میں پہنچا دیا ہے۔ آجکل ہر آدمی میڈیا میں اور لاؤڈ اسپیکر کی مجلسوں میں شاندار الفاظ بکھیر رہا ہے۔ حالانکہ عمل کے اعتبار سے وہ صفر ہوتا ہے۔ دور جدید نے لوگوں کی صرف دو عملی میں اضافہ کیا ہے۔ ۲۷ اپریل ۱۹۹۴ء ہندوستان ٹائمنس (۲۷ اپریل) کے صفحہ اول پر کلکتہ کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ مسٹر شیر سنگھ ایک آئی اے ایس افسر ہیں۔ وہ مغربی بنگال گورمنٹ میں مین پاور شعبہ کے ڈائرکٹر ہیں۔ وہ مسلمانوں کے اجتماعات میں بابری مسجد کے مسئلہ پر مسلم پسند تقریریں کرتے تھے اور مسلمان بہت خوش ہوتے تھے۔ اب انھوں نے دوکتا ہیں شائع کی ہیں: Babar, the secular emperor Archaeology of Babri Masjid ہندوستان کی مسلم تنظیموں کی طرف سے اس کتاب کی زبردست نمائندگی کنگ فیصل فاؤنڈیشن میں کی گئی۔ چنانچہ سنہ ۱۹۹۴ کے کنگ فیصل ایوارڈ میں مسٹر شیر سنگھ کے لئے چار ملین امریکی ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا۔ اگرچہ مغربی بنگال کی ریاستی حکومت نے ان کو فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔ اور ابھی تک وہ اس قیمتی انعام کو وصول نہیں کر سکے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو آدمی منفی کام کے لئے اٹھے اس کی وہ خوب پذیرائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی مثبت کام کے لئے اٹھے اس کو مسلمانوں کی طرف سے کوئی حمایت نہیں ملتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی اسلام پر ہیں نہ کہ اصولی اسلام پر۔ قومی اسلام میں غیر قوموں کو حریف کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔ اور اصولی اسلام میں غیر قوموں کو مدعو کے روپ میں۔ قومی اسلام میں دوسری قومیں عداوت کا موضوع بنتی ہیں اور اصولی اسلام میں محبت کا موضوع۔ حدیث میں منافق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے : واذا خاصم فجر - یہ حدیث

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page