Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں کتاب الایمان کے تحت آئی ہے۔ ابن حجر اور نووی دونوں نے فجر کی تشریح مال عن الحق کے لفظ سے کی ہے۔ اس کے مطابق ، حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ وہ شخص منافق ہے کہ جب اس سے اختلاف بحث پیش آئے تو وہ انصاف سے ہٹ جائے۔ حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے، مگر مجھ سے اختلاف کرنے والے تمام مسلمان انصاف سے ہٹ گئے ۔ میں نے کہا کہ مسلمان صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو مخالفین نے کہا کہ وہ بزدلی کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد میں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلے پر اپنا ایجی ٹیشن ترک کر دیں تو مخالفین نے کہا کہ وہ کہتے ہیں مسلمان بابری مسجد کو ہندوئوں کے حوالے کر دیں۔ میں نے کچھ مفسرین پر علمی تنقید کی تو کہا گیا کہ دیکھو، یہ علماء پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہند و مسلم نزاعی معاملات میں مسلمان پر امن جد و جہد کا طریقہ اختیار کریں، تو کہنے والوں نے میرے بارہ میں کہا کہ وہ ملی تشخص سے دست برداری کی دعوت دے رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ موجودہ قومیں مسلمانوں کی حریف نہیں ہیں، بلکہ وہ مدعو کے حکم میں ہیں، تو کہا گیا کہ یہ اسلام دشمنوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں ۔ وغیرہ۔ میں کسی کو منافق نہیں کہہ سکتا۔ مگر حدیث کی روشنی میں یہ ضرور کہوں گا کہ مذکورہ قسم کی باتیں بلاشبہ منافقت والی باتیں ہیں۔ یہ مخلصانہ ایمان والی باتیں نہیں۔ ۲۹ اپریل ۱۹۹۳ مسلمان کم از کم نصف صدی سے اقبال کے اس شعر میں گم ہیں : آتھجد کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے شمشیر و سنان اول طاؤس و رباب آخر مگر امتوں کی تقدیر کے بارہ میں یہ بات صحیح نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کوئی امت نفع بخشی کا ثبوت دے کر دنیا میں جگہ حاصل کرتی ہے، اور جب وہ نفع بخشی کی صلاحیت کھو دے تو وہ دنیا میں عزت و سربلندی کے مقام سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ یہی اصول قرآن سے ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: و اما ما ينفع الناس فيمكث في الارض۔ نئی دہلی کے انگریزی پندرہ روزہ انڈیا ٹوڈے نے اپنے شمارہ ۳۱ مارچ ۱۹۹۳

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page