آغازِ کلام
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جنیوا کی میٹنگ کی رپورٹ شائع کی تھی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ہونے والی اس میٹنگ میں پاکستان نے انڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا مگر مبر ملکوں کا تعاون نہ ملنے کی وجہ سے اس کو کامیابی نہ ہوئی۔ اس رپورٹ کے بارے میں قارئین کے خطوط انڈیا ٹوڈے (۳۰ اپریل) میں چھپے ہیں۔ ایک قاری نے لکھا ہے کہ پاکستان کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اس پیرا ٹروپر کی مانند ہیں جو جہاز سے باہر چھلانگ لگا دے جب کہ وہ یہ نہ جانتا ہو کہ پیرا شوٹ کیسے کھولا جائے: Benazir Bhutto is like a paratrooper who jumps out of the aircraft without knowing how to open the parachute. (R. Batra, New Delhi) مسٹر ہترا کا یہ تبصرہ تمام مسلم لیڈروں پر صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر بار بار یہی کر رہے ہیں کہ وہ جوش میں آکر ایک چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ بعد کو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ چھلانگ کے تقاضے پورے کرنے کی طاقت ان کے اندر نہیں ہے۔ موجودہ زمانہ کا کوئی بھی مسلم رہنا مجھے اس سے مستثنیٰ نظر نہیں آتا ، خواہ باریش رہنما ہو یا بے ریش رہنما۔ یکم مئی ۱۹۹۲ حافظ محمد اخلاق صاحب (۲۶ سال) ہر دہ (مدهیه پردیش) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ملاقات میں بتایا کہ ان کے یہاں ۱۴۷۱ سے لے کر اب تک کوئی فساد نہیں ہوا۔ وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ ہندو عید کے موقع پر مسلمانوں کا استقبال کرتے ہیں اور مسلمان دسہرہ کے موقع پر ہندوؤں کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ تیوہار کے دن لوگ سڑکوں پر دونوں طرف کھڑے ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو ہار پہناتے ہیں۔ سونف سپاری پیش کرتے ہیں۔ کہیں کہیں سرکس پر گیٹ بناتے ہیں۔ وغیرہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد توڑ دی گئی تو اس کے بعد ہر دہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی ۔ باہر کے کچھ ہندو فرقہ پرست ہر دہ آئے اور انھوں نے ہر دہ میں ہندوؤں کا جلوس نکالا۔ وہ اس قسم کے نعرے لگا رہے تھے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader