آغازِ کلام
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
تیل لگا کر ڈابر کا نام مٹا دو بابر کا جب جب ہند و جاگا ہے دیش سے دشمن بھاگا ہے جس ہندو کا خون نہ کھولے خون نہیں وہ پانی ہے بچہ بچہ رام کا ہندوستان کے کام کا اس سے مسلم نوجوانوں میں بھی کچھ رد عمل پیدا ہوا۔ انگریز بڑے لوگوں نے مسلم نوجوانوں کو روکا۔ انھوں نے جوابی کارروائی کرنے کے بجائے ذمہ دار ہندوؤں تک اپنی شکایت پہنچائی۔ یہ ہندو اپنے ہندو نوجوانوں کو روکنے کے لئے سڑک پر آگئے۔ انھوں نے ہندو نوجوانوں سے کہا کہ یہ وقت تو مسلمانوں سے معافی مانگنے کا ہے نہ کہ اس طرح کا نعرہ لگانے کا۔ ہر دہ کے لوگوں نے اس صورتحال کا منفی جواب دینے کے بجائے مثبت انداز میں اس کا جواب دیا۔ یعنی انھوں نے اپنی امن کی کوششیں تیز تر کردیں۔ پہلے صرف ایک ایک تیوہار پر استقبال کیا جاتا تھا۔ اب انہوں نے اس کو ڈبل کرکے دو دو تیوہار پر استقبال شروع کر دیا۔ یعنی مسلمانوں نے دشہرہ کے ساتھ دیوالی کے موقع پر بھی استقبال کا انتظام کیا۔ اسی طرح ہندوؤں نے عید کے ساتھ میلاد النبی کے موقع پر بھی مسلم جلوس کا استقبال کیا۔ چنانچہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ ۲ مئی ۱۹۹۲ دسمبر ۱۹۹۳ میں میں امریکہ ( لاس اینجلس ) میں تھا۔ وہاں میری ملاقات مولانا سید سلیمان ندوی کے صاحبزادے ڈاکٹر سلمان ندوی سے ہوئی۔ ڈاکٹر سلمان ندوی انڈیا سے پاکستان گئے۔ اب وہ ساؤتھ افریقہ میں رہ رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ سید صاحب گڈول مشن (خیر سگالی مشن ) پر ۱۹۳۸ میں پاکستان گئے۔ اور پھر لوٹ کر واپس نہیں آئے ۔ اخلاقی اعتبار سے یہ بات درست نہ تھی۔ ایسا انہوں نے کیوں کیا۔ ڈاکٹر سلمان ندوی نے کہا کہ میں اس سفر میں سید صاحب کے ساتھ تھا۔ وجہ یہ ہوئی کہ سید صاحب کو ویزا میں توسیع کی ضرورت پیش آئی۔ میں نے درخواست دی تو کلرک نے کہا کہ درخواست دہندہ کو خود یہاں آنا چاہئے۔ چنانچہ سید صاحب کو دھوپ میں کراچی قونسل خانہ کی کھڑکی پر کھڑا ہونا پڑا۔ کلرک نے سید صاحب سے پوچھ گچھ کے بعد کہا کہ آپ کو پاکستان میں رہنا ہے تو رہ جائیے ہم ویزا میں توسیع نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader