Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں گے۔ اس سے بدول ہو کر سید صاحب وہاں رہ گئے۔ ہندوستان واپسی کے بعد میں نے ایک صاحب سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس معاملے کو جانتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو جب یہ قصہ معلوم ہوا تو انھوں نے بہت افسوس کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر سید صاحب واپس آکر مجھے یہ قصہ بتاتے تو ان کی خاطر میں سفارتخانہ کے پورے عملہ کو سزا دیتا۔ ۳ مئی ۱۹۹۳ جمیل اختر صاحب بیگو سرائے (بہار) کے رہنے والے ہیں۔ آجکل وہ دہلی میں ہیں یہاں انھوں نے پلاسٹک کا کام شروع کیا ہے۔ ان کا دہلی کا فون نمبر یہ ہے : 684997 انھوں نے بتایا کہ ستمبر ۱۹۹۳ ء میں وہ بھٹنڈا (پنجاب) گئے ۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مسجد میں مرمت اور صفائی کا کام ہو رہا ہے۔ اس کے نیچے دکانیں تھیں اور اوپر کی منزل میں نماز ہوتی تھی۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ یہ مسجد ابھی چند مہینے پہلے واگذار ہوئی ہے۔ ۱۹۴۷ کے ہنگامہ میں یہ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ یہاں چونکہ مسلمان بہت کم تھے، اس لئے کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلی۔ وقف بورڈ نے خاموشی کے ساتھ اس کا مقدمہ عدالت میں ڈال دیا۔ لمبی مدت کے بعد اب عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ اس مسجد کو ہندوؤں نے اپنے قبضہ میں لے کر اس کے نیچے دکانیں بنالی تھیں اور اوپر ان کی رہائش گاہ تھی۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد پولیس نے اس کو خالی کرا کر مسلمانوں کو دے دیا۔ یہ ایک نہایت سبق آموز مثال ہے۔ اجودھیا میں مسلمانوں نے ایسی ٹیشن اور ہنگامہ کے ذریعہ مسجد کو حاصل کرنا چاہا مگر مسجد ان کو نہیں ملی ۔ بھٹنڈا میں انھوں نے عدالتی عمل (Judicial activism) کے ذریعہ مسجد کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور مسجد انھیں مل گئی۔ ۴ مئی ۱۹۹۳ جمیل اختر صاحب تین سال سعودی عرب (مدینہ) رہ کر واپس آئے ہیں۔ وہاں وہ ایک فیکٹری میں آپریٹر تھے جو پولی تھین بیگ بناتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں وہاں ملٹن نہیں تھا۔ کیوں کہ وہاں بہت امتیاز ہے۔ تنخواہ میں آپریٹر تھا اور مجھ کو ۹۰۰ ریال ماہانہ ملتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page