آغازِ کلام
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
اور میرا ہیلپر (کامل) ایک عرب تھا جو میرا ماتحت تھا، اس کو ۱۲۰۰ ریال ماہانہ ملتا تھا۔ عرب اور غیر عرب کے درمیان یہی امتیاز نیچے سے لے کر اوپر تک ہر جگہ ہے۔ ہندوستان کے علماء اور رہنما اس بات پر ہنگامہ کئے ہوتے ہیں کہ یہاں ہندو اور مسلمان کے درمیان امتیاز برتا جا رہا ہے۔ مگر یہی امتیاز اس سے سے زیادہ بڑے پیمانے پر عربوں اور غیر عربوں کے درمیان عرب ملکوں میں پایا جاتا ہے اور اس پر کوئی رہنما شور وغل نہیں کرتا۔ ۵ مئی ۱۹۹۳ امریکہ کے سفر میں ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ کو میری ملاقات ڈاکٹر مرغوب احمد قریشی (پیدائش ۱۹۳۱) سے ہوئی ۔ انہوں نے ایک مسلم تحقیقی ادارہ (Think tank) قائم کیا ہے اور کئی سال کے ریسرچ کے بعد ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں کامیابی کے لئے ہمیں ایک ذہنی جنگ (intellectual warfare) برپا کرنی ہوگی۔ ہمیں گہرا مطالعہ کر کے جاننا ہوگا کہ ہمیں کس کو گرانا ہے اور کس کو اٹھانا ہے اور اپنے مقصد کو کس طرح حاصل کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ایک عمدہ مثال خلیج میں ملتی ہے۔ امریکہ نے اپنے خاتون عراقی سفیر اپریل گلائسپي (April Gliaspy) کے ذریعہ ایک طرف شاہ فہد سے کہا کہ صدام حسین تمہارے اوپر حملہ کرنے والا ہے اور دوسری طرف صدام حسین سے کہا کہ اگر تم کویت میں اپنی فوجیں داخل کر دو تو ہم اس میں کوئی دخل نہیں دیں گے۔ اس کا جو نتیجہ ہوا وہ آپ کو معلوم ہے۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعہ ایک اقلیت ایک اکثریت کو کنٹرول کر سکتی ہے : This is how the minority controls the majority. انھوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ملک کو مزید تقسیم کرائیں۔ اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ مسلمان دو لیول پر اپنی دو تنظیم قائم کریں۔ ایک خفیہ سطح پر اور دوسری ظاہری سطح پر۔ وہ ایک قوت کو ابھار کر اسے دوسری قوت سے لڑائیں۔ ہندوستان جب تک ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائے اس وقت تک مسلمان ہندوستان کے ظلم سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔ یہ بدترین قسم کی بے دانشی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور ساری دنیا میں اسی قسم کی بے دانشی میں مبتلا ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader