Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر مہیش شرما نے پنڈت دین دیال اپادھیائے پر ایک ہندی کتاب لکھی ہے ، اس کتاب کے اجرا پر ایک خصوصی اجتماع نئی دہلی میں پارلیمنٹ انہی کے ہال میں ہوا ۔ اس میں آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے بڑے لیڈر شریک تھے۔ لال کرشن اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی وغیرہ ۔ ان کی دعوت پر میں نے بھی شرکت کی ۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے جن سنگھ کے بانیوں میں سے تھے۔ جن سنگھ بعد کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ جب بھارتیہ جن سنگھ کا دستور لکھا گیا تو اس میں یہ درج تھا کہ جن سنگھ کا مقصد بھارت میں دهرم راج لانا ہے ۔ اس موقع پر پنڈت دین دیال اپادھیائے نے مداخلت کرکے دھرم راج کے آگے رول آف لا (Rule of law) لکھوایا۔ یہ ترمیم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم ایسا اس لئے کر رہے ہیں تا کہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ جس طرح پاکستان میں تھیوکریسی ہے اسی طرح انڈیا میں بھی تھیوکریسی ہوگی۔ مسلم اخباروں میں یہ بات تو بہت چھپی کہ جن سنگھ ملک میں دهرم راج لانا چاہتا ہے مگر جہاں تک مجھے یاد ہے کسی بھی مسلم اخبار یا رسالے نے یہ نہیں بتایا کہ جن سنگھ کے دستور میں دھرم راج کی تشریح رول آف لا کے لفظ سے کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے لوگوں سے اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنے دستور میں اپنا مقصد حکومت الہیہ قائم کرنا بتایا ہے تو فورا وہ کہیں گے کہ حکومت الہیہ سے ہماری مراد اقامت دین ہے ۔ مگر جماعت اسلامی کے دانشوروں نے یہ نہیں بتایا کہ دهرم راج سے جن سنگھ کی مراد رول آف لا ہے۔ ۷ مئی ۱۹۹۳ پال فنڈلے امریکہ کے ایک سیاست داں ہیں۔ وہ ۲۲ سال تک امریکی کانگریس کے ممبر رہے ۔ انھوں نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ۔ وہ سچ بولنے کی جرات کرتے ہیں : Paul Findlay, They Dare to Speak Out پال فنڈلے نے اس کتاب میں یہودیوں کے بارہ میں کچھ حقائق کا انکشاف کیا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں چھ ملین (ساٹھ لاکھ) یہودی ہیں ۔ وہ اقلیت میں ہوتے ہوئے انتہائی منظم ہیں۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page