آغازِ کلام
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے مفاد کے مقابلہ میں، ہمیشہ اپنی قوم کے مفاد کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان میں دولاکھ اصل فعال یہودی ہیں۔ انہوں نے مالی اداروں اور میڈیا پر قبضہ کرکے امریکہ کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے ۔ وہ مجرمانہ سازش کے تحت امریکہ کو اسرائیل کا ساتھی بنائے ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد امریکہ کے یہودی پال فنڈلے دشمن ہوگئے ۔ اپنے میڈیا کے ذریعہ انہوں نے پال فنڈلے کی اتنی زیادہ کردار کشی کی کہ ۲۲ سال کے بعد امریکی کانگریس کے الیکشن میں وہ ہار گئے۔ ٹھیک یہی تجربہ مجھے اپنے سلسلہ میں مسلم شخصیتوں کی طرف سے ہورہا ہے۔ میں نے ان پر تنقید کی تو ان شخصیتوں کے حلقے میرے دشمن ہوگئے۔ انہوں نے اپنے تمام ذرائع سے میری کردار کشی شروع کردی۔ یہ لوگ نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کو ابھار رہے ہیں۔ میں ایک بکا ہوا آدمی ہوں۔ میں ہندوؤں کا ایجنٹ ہوں۔ میں سرکاری مولوی ہوں۔ وغیرہ۔ جو لوگ اللہ سے بے خوف ہوں ان کے درمیان سچ بولنے کی یہی قیمت ہمیشہ دینی پڑتی ہے۔ ۸ مئی ۱۹۹۳ء مولانا ابوالہاشم بنگالی متحدہ بنگال مسلم لیگ کے آخری جنرل سکریٹری تھے۔ ان کا ایک انٹرویو لاہور کے روز نامہ نوائے وقت کے شمارہ ۲۹ اپریل ۱۹۹۳ (فرائیڈے میگزین) میں چھپا ہے۔ انٹرویو لینے والے مسٹر محمد بدر منیر ہیں۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : ”گاندھی کے بارہ میں ان کا خیال تھا کہ وہ اس صدی کا سب سے بڑا منافق تھا۔ مولانا ابوالہاشم نے بتایا کہ گاندھی نے جب نو اکھالی کے فسادات کے بعد وہاں ستیا گرہ شروع کی تو میں وہاں گیا اور گاندھی کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرکے انہیں اسلام لانے کی ترغیب دی۔ گاندھی جی نے جواب میں کہا: مولانا آپ نے بہت دیر کر دی۔ اب جبکہ میں مرنے والا ہوں تو ان باتوں کا کیا فائدہ۔ مولانا کے بقول ، جب انہوں نے مولانا حسرت موہانی سے اس کا تذکرہ کیا تو وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولے : اجی مولانا صاحب، خدا کا شکر ادا کریں کہ گاندھی مسلمان نہ ہوا، ورنہ مسلمانوں کا وہ حشر کرتا کہ خدا کی پناہ ۔ اجی، مولانا ، اسلام نے آپ کا کیا بگاڑا تھا۔ مولانا ابوالہاشم کہتے تھے کہ میں ہندوؤں کو ملعون کہتا ہوں ۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader