آغازِ کلام
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
دو بالیں توڑیں اور ان کو لے کر سرکٹ ہاؤس پہنچا وہاں وہ مذکورہ وزیرِ زراعت کے کمرہ میں داخل ہوا۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں بازار میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے اور اس کا فیصلہ نہیں ہو رہا ہے۔ میں آپ کے پاس اس کا فیصلہ لینے کے لئے آیا ہوں کیوں کہ آپ اس کو نٹ ٹنے کے لئے پراپر پرسن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ جھگڑا ان دو بالوں کے بارے میں ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بالیں گیہوں کی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ بالیں جو کی ہیں۔ آپ چونکہ ایگریکلچر کے منسٹر ہیں، اس لئے آپ اس کا فیصلہ کر دیں کہ یہ بالیں گیہوں کی ہیں یا جو کی۔ جیسا کہ پیشگی طور پر اندازہ تھا، منسٹر صاحب اس سوال کا جواب نہ دے سکے۔ اس کے بعد وہ آدمی جلسہ میں پہنچا جس کا انتظام پہلے سے کیا جا چکا تھا۔ وہ اسٹیج پر دونوں بال لیکر کھڑا ہو گیا۔ پورا قصہ بتانے کے بعد اس نے کہا کہ جو کا غرض ایسے لوگوں کو زراعت کا وزیر بنائے جو گیہوں کی بال اور جو کی بال کا فرق نہ جانتے ہوں۔ وہ آخر ملک کو کس طرح ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں کانگریس لیڈر کی ساکھ اکھڑ گئی اور وہ الیکشن ہار گئے۔ ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء انڈیا میں جس ڈھنگ سے ڈیموکریسی ہے، اس میں کسی گورنمنٹ سے بہت زیادہ امید کرنا حماقت ہے۔ ایک ہندو مبصر راجیو دھون نے بہت صحیح کہا کہ موجودہ حالات میں گورنمنٹ اگر فیصلہ کن کردار ادا کرے تو اس پر یہ تنقید کی جائے گی کہ وہ بے در دہے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو بز دل بتایا جائے گا: When the Government is decisive, it is criticised for ruthlessness. When it fails to act, it is accused of calculating cowardice. ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود اپنی تدبیر پر بھروسہ کیا جائے۔ ہماری طرف سے مثبت تدبیر کے بعد حکومت بھی زیادہ بہتر طور پر اپنا رول ادا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader