آغازِ کلام
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی تحریک نے مسلمانوں میں کس قسم کا ذہن بنایا تھا، بدقسمتی سے یہی ذہن آج بھی سرحد کے دونوں طرف کم و بیش موجود ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے بھی مسلمانوں کا سب سے بڑا سرمایہ نفرت اغیار تھا۔ اور آج بھی ان کا سب سے بڑا سرمایہ نفرت اغیار ہے۔ یہی منفی مزاج ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو تباہ کر رکھا ہے۔ ۹ مئی ۱۹۹۳ مکہ سے نکلنے والے عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (۲۵ اپریل ۱۹۹۳ء) میں ابراہیم ابو کریمہ کے قلم سے ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے: الصبر فی القرآن الکریم والسنۃ النبویۃ ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ المعجم المفهرس لالفاظ القرآن الکریم کے مطابق صبر کا مادہ اور اس کے مشتقات قرآن میں ۱۰۳ بار آئے ہیں۔ اسی طرح احادیث میں صبر کے فضائل کثرت سے بیان کئے گئے ہیں۔ مضمون کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے: لهذا كان الصبر من اعظم اخلاق المومنين وله منزلة من ارفع وارقى منازل الصالحين ایک طرف اس میں صبر کو مومنین صالحین کا اعلیٰ وارفع اخلاق بتایا گیا ہے۔ دوسری طرف اخبار کا بیشتر حصہ ظلم و زیادیتی کی باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ مثلاً اسی اخبار کے صفحہ اول پر بوسنیا اور کشمیر کے مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا تذکرہ نمایاں سرخیوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام مسلم اخباروں اور رسالوں کا حال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم علماء اور دانشور صبر سے صرف روایتی طور پر واقف ہیں۔ انھوں نے صبر کی حقیقت کو از سر نو اپنے حالات کے اعتبار سے دریافت نہیں کیا۔ صبر اگر ان کی دیانت ہوتی تو وہ جانتے کہ بوسنیا اور کشمیر میں مسلمانوں سے صبر کا حکم مطلوب تھا نہ کہ جہاد کا۔ دونوں جگہ کے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار اعلیٰ کو چھوڑ کر بقیہ تمام چیزیں حاصل تھیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ سیاسی اقتدار اعلیٰ کے معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرتے، ہوئے دوسرے میدانوں میں حاصل شدہ امکانات کو استعمال کریں۔ مگر غلط سوچ کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ ملی ہوئی چیز ان کی نظر میں غیر اہم ہو گئی اور نہ ملی ہوئی چیز سب سے اہم قرار پائی۔ چنانچہ دونوں جگہ انھوں نے انتہائی غیر ضروری طور پر مقامی اقتدار سے لڑائی چھڑ دی۔ بوسنیا اور کشمیر میں جس چیز کو ظلم بتایا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader