آغازِ کلام
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے وہ حقیقتہ ظلم نہیں ہے بلکہ خود مسلم رھناؤن کی بے صبری کی قیمت ہے۔ اس کا علاج دوبارہ صبر کی روش کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنا۔ ۱۰ مئی ۱۹۹۳ دہلی کے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ وہ مجھ سے کم عمر اور مجھ سے زیادہ تندرست تھے۔ مادی اعتبار سے وہ بڑی بڑی ترقیاں کر رہے تھے۔ بہت سی کاریں ، کئی بلڈنگیں، اعوان وانصار کی کثرت، پیسے کی افراط۔ مگر اچانک دل کا دورہ پڑا اا در چند منٹ میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد میں ان کے یہاں گیا۔ ایک بڑے کمرے میں ان کا جسم ایک گدے پر لٹایا ہوا تھا۔ ان کا جسم بظاہر خاموش تھا، مگر وہ ایک عظیم پیغام نشر کر رہا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ان کا مردہ جسم زبان حال سے کہہ رہا ہو: میں سب کچھ کھو چکا۔ پانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز اب پانے کے لئے باقی نہیں رہی سوا جنت کے۔ اب میرے آگے صرف ایک ہی پانے کے قابل چیز ہے اور وہ جنت ہے۔ یا تو میں اس کو پالوں یا اس کو بھی کھو کر ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاؤں۔ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ آج تمام اخباروں کے صفحہ اول کی اہم ترین خبر ساؤتھ افریقہ کے بارے میں تھی۔ ڈاکٹر نیلسن منڈیلا آڑ ادساؤتھ افریقہ کے پہلے صدر منتخب ہوگئے جس کی بنیادی حکومت کے بجائے جمہوری حکومت ہوگی۔ ٹائس آف انڈیا (ا مئی) نے اس خبر کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں و قائم کی ہے : From prisoner to president Mandela ساؤتھ افریقہ ایک انتہائی زرخیز ملک ہے۔ اس کی آبادی تین کروڑ ہے۔ سفید فام اقلیت یہاں ساڑھے تین سو سال سے حکومت کر رہی تھی۔ ڈاکٹر منڈیلا نے اس کے خلاف تحریک چلائی۔ وہ ۲۷ سال تک جیل میں رہے۔ آخر کار ان کی تحریک کامیاب رہی۔ سفید فام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader