آغازِ کلام
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت آزاد الیکشن پر راضی ہوئی ۔ الیکشن ہوا تو ووٹروں کی دو تہائی اکثریت نے نیسن منڈیلا کی پارٹی (ANC) کو ووٹ دیا۔ نیسن منڈیلا مہاتما گاندھی سے متاثر ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریک عدم تشدد کی بنیاد پر چلائی۔ عین اسی زمانہ میں فلسطین کی آزادی کی تحریک تشدد کی بنیاد پر چلائی گئی۔ فلسطینی ۵۰ سالہ قربانیوں کے باوجود ناکام ہیں۔ اور ساوتھ افریقہ کی سیاہ فام نسل اسی مدت میں پرامن جدوجہد کے ذریعہ کامیاب ہوگئی۔ یہ واقعہ ایک تاریخی ثبوت ہے کہ تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں عدم تشدد کی طاقت زیادہ بڑی ہے۔ ۱۲ مئی ۱۹۹۳ ٹائمس آف انڈیا کے سابق ایڈیگری لال جین نے ٹائمس آف انڈیا (۲۴ اگست ۱۹۹۲) میں برصغیر ہند کے مسلمانوں کے بارہ میں لکھا تھا کہ ہندوستانی اسلام کو ۱۹۶۵ اور ۱۹۷۱ میں ایک اور انقلابی تبدیلی کو جھیلنا پڑا جب کہ مسلمانوں کی عظیم بہادری کا افسانہ میدان جنگ میں دفن کر دیا گیا : Indian Islam underwent another radical change in 1965 and 1971 when the myth of superior Muslim valour was laid to rest on the battlefield. اس تبصرہ کو پڑھ کر مسلم دانشوروں کو غصہ آئے گا۔ مگر مجھے خود مسلم دانشوروں اور مسلم رہنماؤں پر غصہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جوش دلا کر غیر ضروری طور پر لڑا دیتے ہیں۔ اس کا واحد نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان شکست کھاتے ہیں اور تاریخی روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے اوپر ان کا جو ایک بھرم قائم تھا وہ بھی ٹوٹ کر ختم ہو جاتا ہے۔ ۱۳ مئی ۱۹۹۳ مولانا انیس لقمان ندوی سے میں نے کہا کہ میں فلم نہیں دیکھتا۔ مگر آجکل کے زمانہ میں فلمی گانے اس طرح فضا میں بکھیرے جا رہے ہیں کہ آدمی کو بہر حال انھیں سننا پڑتا ہے۔ اس طرح کا ایک گانا بار بار میرے کان میں پڑا جس میں ہیرو اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ : ہم تڑپ تڑپ کر تمہارے گیت گائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader