آغازِ کلام
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ میرا بھی حال ہو رہا ہے۔ میں مسلسل طور پر اتنے زیادہ شدید غم میں رہتا ہوں کہ زندگی میرے لئے ایک ناقابل برداشت بوجھ بن گئی ہے۔ مگر خدا اور خدا کے دین کے لئے جو کچھ میں لکھتا ہوں اس کو میں چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ کیوں کہ اس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ ۴ مئی ۱۹۹۳ اخبارات کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کچھ خبروں کو نمایاں طور پر چھاپتے ہیں۔ اور کچھ دوسری خبروں کو وہ سرے سے اپنے کالموں میں جگہ نہیں دیتے۔ مثلاً ہندوستان میں ایک مسجد (بابی مسجد) ڈھائی گئی تو تمام اخباروں نے اس کو بار بار چھاپا۔ مگر اسی ہندوستان میں ساڑھے تین لاکھ مسجدیں آباد ہیں تو اس کی خبر کسی اخبار میں نہیں ملے گی۔ میں نے ایک جرنلسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر متوازن رپورٹنگ (unbalanced reporting) ہے۔ اور یہی غیر متوازن رپورٹنگ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس طریقہ نے تمام لوگوں کی سوچ کو منفی بنا دیا ہے۔ ۱۵ مئی ۱۹۹۳ اصول فقہ کی کتابوں میں ایک متفقہ اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ دفع مضرت، جلب منفعت پر مقدم ہے۔ (درء المفسدۃ مقدم علی جلب المصلحۃ) شاطبی فقہاء کے یہاں یہ ایک متفق علیہ شرعی اصول ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے جن مسلم مصلحین نے بھی کوئی اقدام کیا انھوں نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے اور یہی سب سے بڑی وجہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی ہے۔ ۱۶ مئی ۱۹۹۳ جدید مورخین کی اکثریت ابن خلدون کو اپنے فکر و نظر اور اسلوب بیان کے اعتبار سے تاریخی مفاجات (المفاجأة التاريخية) کہتی ہے۔ ابن خلدون کے زمانہ میں مسجع عبارت لکھنا ہی واحد اعلیٰ اسلوب سمجھا جاتا تھا۔ مگر ابن خلدون نے انتہائی منفرد طور پر غیر مسجع نثر میں اپنی کتاب لکھی۔ فکری اعتبار سے بھی ابن خلدون کی کتاب (مقدمہ) اپنے زمانہ سے بہت مختلف نظر آتی ہے۔ یہ دور فکری جمود کا دور تھا۔ مگر ابن خلدون نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader