Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

حیرت انگیز طور پر فکری اجتہاد کی مثال قائم کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی تنزل کسی قوم کا کلی طور خاتمہ نہیں کرتا۔ نومبر ۱۹۹۳ء کے ریاستی الیکشن میں خود ایودھیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار ہار گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایودھیا کی مقامی ہندو آبادی بی جے پی کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اگر نا اہل مسلم لیڈر سارے ملک میں ہنگامہ کر کے ہندو فرقہ کو اس ایشو پر نہ جگاتے تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو خود ایودھیا کے ہندوؤں کی تائید بھی حاصل نہ ہوتی اور مسجد کے خلاف ان کی 'سازش' اپنی موت آپ مر جاتی۔ ۱۸ مئی ۱۹۹۳ء ۱۹۷۷ء میں مسٹر سید حامد آئی اے ایس Subordinate Services Commission کے چیئرمین تھے۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ان سے اور کچھ دوسرے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے ایڈ منسٹریشن میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح ہمارا ایڈ منسٹریشن یکطرفہ (top-sided) ہو جائے گا۔ آپ لوگ مسلمانوں کو آئی اے ایس کے مقابلہ میں بٹھائیے ۔ گورنمنٹ اس معاملہ میں پورا تعاون کرے گی۔ اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خسر و تھے۔ چنانچہ علی گڑھ میں آئی اے ایس کے امیدواروں کے لیے کو چنگ سنٹر کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ اس زمانہ میں جب بھی کوئی وانٹ نکلتی تو سید صاحب درخواست کا فارم بڑی تعداد میں لے کر علی گڑھ جاتے اور طلبہ کو شوق دلا کر انھیں فارم پر کرنے پر آمادہ کرتے۔ جو طلبہ فارم پر کرتے ان کے لئے مفت کو چنگ کرائی جاتی۔ اس سکیم کے ذریعہ بہت سے مسلم نوجوان آئی اے ایس کے امتحان میں شریک ہو کر آئی اے ایس افسر بن گئے۔ اس کے بعد ۱۹۸۰ء میں سید حامد صاحب وائس چانسلر ہو کر علی گڑھ گئے اور ۱۹۸۵ء تک وہاں وائس چانسلر رہے۔ مگر ان کی وائس چانسلری کے زمانہ میں یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ سید صاحب نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نظام میں بعض خرابیوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page