آغازِ کلام
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
اصلاح کرنا چاہا۔ اس پر طلبہ کی طرف سے سخت رد عمل ہوا انھوں نے وی سی لاج پر جارحانہ حملہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کیمپس میں پولیس بلانی پڑی۔ اسی دوران 19۸۲ میں کچھ طلبہ نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کی۔ اس وقت پولیس نے گولی چلائی جس میں ایک لڑکا آفتاب احمد نام کا مرگیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں زبردست ہنگامہ ہوا اور اس ہنگامہ میں مذکورہ اسکیم ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ کسی بھی اصلاحی اسکیم میں نصف حصہ زیر اصلاح افراد کا ہوتا ہے۔ اگر زیر اصلاح افراد اپنے حصہ کا کردار ادا نہ کریں تو اصلاحی اسکیم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ۱۹ مئی ۱۹۹۴ مسٹر جیرالڈ روسکو (Gerald Roscoe) کی کتاب (The Good Life) دیکھی۔ یہ کتاب بدھزم کے بارے میں ہے ۔ وہ بنکاک سے ۱۹۹۲ میں چھپی ہے ۔ اس کے تیسرے باب میں میں وہ لکھتے ہیں کہ بدھزم میں رسمی تبدیلی مذہب کا طریقہ نہیں ہے۔ میں نے ایک بار ایک انگلش آرٹسٹ سے پوچھا جو بدھسٹ ہو گیا تھا کہ تم نے بدھزم کیسے اختیار کیا۔ اس کا جواب یہ تھا کہ میں بدھسٹ نہیں بنا بلکہ میں نے دریافت کیا کہ میں ایک بدھسٹ ہوں : I didn't become a Buddhist. I realized that I am a Buddhist. (p. 20) ٹھیک یہی بات میں نے ایک یورپی نو مسلم کے بارے میں پڑھی۔ اس سے پوچھا گیا تھا کہ تم نے کیسے اسلام قبول کیا۔ اس نے جواب دیا : I didn't become a Muslim. I realized that I am a Muslim. دونوں میں یہ مشابہت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر دین فطرت کی طلب پیدائشی طور پر موجود ہے۔ انسان جب خارجی حقیقت کو پاتا ہے تو وہ دراصل اسی اندرونی تقاضے کو اس سے مربوط کرتا ہے۔ البتہ مسلم کا رب حقیقی ربط ہے اور بدھسٹ کا ربط مصنوعی ربط۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد فاتح ملکوں (امریکہ، برطانیہ وغیرہ ) نے انٹرنیشنل کو آپریشن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader