Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے جمیعتہ اقوام League of Nations بنائی۔ اس وقت کے مسلم رہمناؤں نے اس کے خلاف نہایت سخت رائیں دیں۔ مثلاً اقبال نے کہا : چیست جمعیت اقوام کفن دزدے چند ہر تسیم قبور انجنے ساخته اند اس قسم کے منفی تبصروں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مغربی قوموں سے نفرت پیدا ہو گئی۔ یہ نفرت سراسر بے معنی تھی۔ یہ قومیں کفن چور نہیں تھیں۔ وہ جدید قوتوں کی حامل تھیں۔ اگر مسلمان ان سے متنفر نہ ہوتے تو ان سے بہت کچھ سیکھتے۔ مگر نفرت کی نفسیات نے ان کے اندر سیکھنے کا ذہن پیدا ہونے نہیں دیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو امریکہ سے نہایت تلخ تجربہ ہوا تھا۔ مگر جاپانی امریکیوں سے متنفر نہیں ہوئے۔ چنانچہ امریکیوں سے انھوں نے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں اور ترقی کی۔ مگر مسلمان ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ۲۱ مئی ۱۹۹۴ آج آل انڈیا ریڈیو (نیشنل چینل) میں ایک ٹاک ریکارڈنگ کے لئے جانا ہوا۔ وہاں لکشمی شنکر باجی سے ملاقات ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ شیواجی اور رانا پرتاپ کے بارے میں بہت سی غلط باتیں مشہور کی گئی ہیں۔ حالاں کہ وہ بہت اچھے لوگ تھے۔ مثلاً شیواجی کے سپاہی ایک بار ایک مسلمان کو پکڑ لائے۔ شیواجی نے اپنے سپاہیوں کی اس بات کو نا پسند کیا اور اس مسلمان کو پالکی میں بٹھا کر اس کے گھر واپس بھیجا۔ اسی طرح مہارانا پرتاپ کی ملاقات عید کے دن کچھ مسلمانوں سے ہوئی۔ اس وقت مہارانا پرتاپ کے پاس کوئی اور چیز انھیں دینے کے لئے نہیں تھی۔ مہارانا پرتاپ کے ہاتھ میں سونے کا کڑا تھا۔ انھوں نے وہ کڑا اتار کر مسلمانوں کو دے دیا۔ اور کہا کہ یہ آپ لوگوں کے لئے عید کا تحفہ ہے اس ملاقات کے بعد میں نے سوچا کہ اس کے باوجود اس ملک میں ہندو مسلم تعلقات کیوں خراب ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ مختلف اسباب سے ایسا ہوا ہے کہ ہندوؤں کے ذہن میں اپنے بڑوں کی اچھی باتیں آگئیں۔ اور مسلمانوں کے بڑوں کی بری باتیں ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ذہن میں ہندو بڑوں کی بری باتیں بسی ہوئی ہیں۔ اور اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page