Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑوں کی اچھی باتیں ۔ اسی غلط سوچ نے دونوں فرقوں کے درمیان خلاف واقعہ طور پر بدگمانیاں پیدا کیں اور دونوں ایک دوسرے کو نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ آج عیدالاضحی تھی۔ نماز کے بعد دہلی میں ایک صاحب کے یہاں ملنے گیا۔ گھر کے ایک لڑکے نے کہا کہ آج یہاں پانی نہیں آیا۔ لڑکے کے والد نے پر فخر انداز میں کہا کہ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے یہاں پانی کا بہت انتظام ہے۔ میں نے سوچا کہ میرا حال تو یہ ہے کہ پانی موجود ہو تب بھی میں اپنے کو بے پانی سمجھتا ہوں ۔ اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ پانی کے بغیر بھی اپنے کو پانی والا سمجھ رہے ہیں۔ کتنا زیادہ فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۳ اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے کہ آپ کے بعد آپ کے مشن کو کون چلائے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ، واضح طور پر میں کسی کا نام نہیں لے سکتا۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ میرے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ یہاں ضرور کسی نہ کسی کو اٹھائیں گے اور وہ اس مشن کو لے کر آگے بڑھے گا۔ البتہ عالم عرب میں ایک واضح نام میرے پاس موجود ہے، اور وہ شیخ محمد سلیمان القائد (طرا بس) کا ہے۔ ان کے اندر اعلیٰ درجہ کی قائدانہ صلاحیت موجود ہے، اسی کے ساتھ انھوں نے اس مشن کو بخوبی طور پر سمجھا ہے۔ طرا بس کے اخوان سے میں نے کہا تھا کہ محمد سلیمان القائد ہمارے مشن کے " لینن " ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے بعد وہ اس مشن کو کامیابی کے ساتھ چلائیں گے۔ ۲۶ اگست ۱۹۹۱ کو نستانی کی حکومت نے ان کو گرفتار کر لیا تھا۔ تادم تحریر وہ قید میں ہیں۔ یقیناً ایک روز وہ باہر آئیں گے ، اور جب باہر آئیں گے تو انشاء اللہ زیادہ بہتر طور پر وہ اس مشن کا کام کرنے کے قابل ہو چکے ہوں گے۔ قرآن میں سورہ المزمل میں ہے کہ واصبر علی ما یقولون (اور لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔) آج اس آیت کو عربی تفاسیر میں دیکھ رہا تھا۔ ہر ایک نے اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page