آغازِ کلام
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
منسوخ قرار دیا ہے۔ ہر ایک نے لکھا ہے کہ قتال کی آیت اترنے کے بعد یہ آیت منسوخ ہو گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی تفسیر میں قرآن فہمی کے لئے پردہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت میں تول پر صبر کا حکم ہے نہ کہ جارحیت پر صبر کرنے کا حکم ۔ ہجرت سے پہلے اہل ایمان جارحیت پر صبر کرتے تھے۔ ہجرت کے بعد جارحیت کے مقابلہ میں قتال کا حکم نازل ہوا۔ مگر جہاں تک ناپسندیدہ تول پر صبر کرنے کا معاملہ ہے، وہ ہجرت کے پہلے بھی مطلوب تھا اور ہجرت کے بعد بھی مطلوب ہے۔ حتی کہ عین میدان جنگ میں بھی اہل ایمان کو تول پر صبر ہی کرنا ہے۔ قولی اذیت رسانی پر صبر ایک عبادت ہے، اور یہ عبادت ہمیشہ باقی رہتی ہے، وہ کبھی منسوخ نہیں ہوتی۔ ۲۵ مئی ۱۹۹۳ سید حامد صاحب (سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی) نے حیدر آباد کے مدینہ ایجوکیشنل سنٹر میں تقریر کی۔ موضوع تھا: مسلم مسائل اور ان کا حل۔ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ملت میں تعلیمی بیداری پر سب سے زیادہ کام حیدر آباد میں ہو رہا ہے۔ لیکن آپس کی مخاصمت اور دشمنی کے باعث حیدر آباد " حسد آباد" بنتا جارہا ہے جو انتہائی تکلیف دہ ہے ( رہنما نے دکن ۲۱ نومبر ۱۹۹۳ء) یہی حال آجکل ہر جگہ کے مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ کسی آدمی کا اپنا لڑکا ترقی کرے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی دوسرے شخص کا لڑکا ترقی کرے تو وہ اس پر حسد کرتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بیٹے کی ترقی میں اپنی بڑائی دیکھتا ہے۔ مگر دوسرے کی ترقی میں وہ اپنی بڑائی نہیں دیکھ پاتا۔ اگر مسلمانوں کے اندر ملی احساس بیدار ہوتا تو وہ دوسرے کی ترقی کو ملت کی ترقی سمجھتے۔ اس طرح وسیع تر معنوں میں ہر سلمان کی ترقی انہیں خود اپنی ترقی نظر آتی۔ مگر بدقسمتی سے یہ احساس مسلمانوں میں موجود نہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۶ مئی) کے وسط میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader