Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (جن سنگھ) نے ۱۹۸۲ کے الیکشن میں حصہ لیا تو اس کے صرف دو ممبر چن کر لوک سبھا میں آسکتے تھے۔ اس کے بعد ۱۹۸۹ کے جنرل الیکشن میں اس کے ۸۶ ممبر کامیاب ہو کر لوک سبھا میں پہنچے۔ پھر ۱۹۹۰ کے الیکشن میں اس کے ۱۱۹ ممبر لوک سبھا میں کامیاب ہو گئے۔ مضمون میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تیز رفتار اضافہ کیسے ہوا۔ خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں نے تسلیم کیا ہے کہ مسلم لیڈروں کی طرف سے اٹھائی ہوئی شاہ بانو تحریک اور بابری مسجد تحریک ہمارے لئے نہایت معاون ثابت ہوئی۔ ان دھواں دھار تحریکوں کی وجہ سے ہمارے لئے یہ ممکن ہوا کہ ہم ہندوؤں کو فرقہ وارانہ لائن پر موبیلائز کریں۔ اس کے بغیر سیاسی کامیابی نا ممکن تھی۔ جن سنگھ نے آریہ سماج کو ساتھ لے کر ۱۹۶۶-۶۷ میں گوہتیہ آندولن چلایا۔ یہ در اصل پولٹیکل اسٹنٹ تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی رد عمل نہیں دکھایا۔ اس معاملہ میں انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ چنانچہ یہ آندولن ناکام ہو گیا ۔ اور ہندو انتہا پسند عناصر کو اسمبلی میں اپنی تعداد بڑھانے کا موقع نہیں ملا۔ مگر شاہ بانو کے بارہ میں جسٹس چندر اپوچڑ کے فیصلے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو دھواں دھار تحریک چلائی، اور بابری مسجد کے نام پر مسلم لیڈروں نے جو احتجاجی ہنگامے برپا کئے ، اس نے ہندوؤں کو جگا دیا۔ اس کا نتیجہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مذکورہ سیاسی کامیابی تھی۔ ۲۷ مئی ۱۹۹۳ ۲۲ مئی کو حج کا دن تھا۔ منی میں رمی جمرات کے موقع پر حاجیوں نے پتھر مارنے کے لئے ہجوم کیا۔ اور غیر ضروری جوش دکھایا۔ اسی دوران کسی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ اس بھگدڑ میں ایک ہزار سے زیادہ حاجی خود حاجیوں کے پیروں کے نیچے دب کر مر گئے۔ حج کے زمانہ میں ایک معمولی چڑیا مارنا بھی حرام ہے۔ مگر حاجیوں نے اپنی نادانی اور بے شعوری کے نتیجہ میں ایک ہزار حاجی مار ڈالے۔ انگریزی روز نامہ ہندوستان ٹائمس (۲۶ مئی) نے اپنے ایڈیٹوریل نوٹ میں لکھا ہے کہ اس بار ۲۵ لاکھ آدمی حج کے لئے مکہ پہنچے تھے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن ملکوں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page