آغازِ کلام
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک نوجوان عالم سے ملاقات ہوئی۔ وہ سعودیہ کی رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مبعوث ہیں۔ اور حیدر آباد میں ایک مدرسہ سے وابستہ ہیں۔ ان کو سعودیہ سے ساڑھے آٹھ ہزار روپیہ مہینہ تنخواہ ملتی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ سعودی عرب میں آپ کو کوئی برائی نظر آتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو ایک برائی وہاں موجود ہے۔ پھر میں نے کہا کہ کیا آپ ان برائیوں کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سعودی عرب میں برائیاں دیکھنے کے باوجود اس کے ساتھ موافقت اور ہم آہنگی کر کے رہ رہے ہیں۔ اس لئے وہاں سے آپ کو ساڑھے آٹھ ہزار روپیہ مہینہ مل رہا ہے۔ اگر آپ وہاں کی معلوم برائیوں کے خلاف بیان دیں تو فورا آپ کی رستم بند ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے ہزاروں مسلمان اسی طرح سعودی عرب اور دوسرے بیرونی ملکوں) سے ایڈجسٹ کر کے رہتے ہیں۔ اس لئے وہاں کا فائدہ انہیں مل پاتا ہے۔ پھر آپ یہاں کے مسلمانوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ بھائیو، ایڈجسٹمنٹ زندگی کا ایک لازمی قانون ہے۔ تم لوگ جس طرح سعودی عرب اور دوسرے ملکوں سے ایڈجسٹ کر کے رہتے ہو، اسی طرح انڈیا میں بھی ایڈجسٹ کر کے رہو۔ اس کے بعد یہاں تمہارے لئے کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ ۱۶ فروری ۱۹۹۳ نہانے کے بعد میں تھوڑی دیر کے لئے دھوپ میں بیٹھتا ہوں۔ اس کا مقصد بال سکھانا ہوتا ہے۔ بال نہ سکھانے میں یہ ڈر رہتا ہے کہ زکام ہو جائے۔ آج فضا میں بادل چھائے ہوئے تھے، اس لئے نہانے کے بعد بال سکھانے کے لئے دھوپ موجود نہ تھی۔ میں نے الیکٹرک میٹر جلایا اور اس کے سامنے کچھ دیر تک اپنا سر کئے رہا۔ بال سوکھ گئے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انسان کی ہر ضرورت کا اس دنیا میں انتظام کر رکھا ہے۔ ہمارے ہر طرف ہر لمحہ خدا کی بے شمار نعمتیں پھیلی ہوئی ہیں جن کے بارہ میں سوچ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader