آغازِ کلام
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ لوگ آئے تھے انھوں نے ان کو ضروری تربیت نہیں دی تھی۔ حاجیوں کو بتانا چاہئے تھا کہ جمرات پر پتھر پھینکنا ایک علامتی عمل ہے۔ اور اس کی اہمیت نہیں کہ ان کے پھینکے ہوئے پتھر واقعہ ستون پر پہنچے یا نہیں۔ اگر وہ اس کو جانتے تو یہ بھگدڑ واقع نہ ہوتی: 28 مئی 1993 ٹائمز آف انڈیا (۲۷ مئی) نے مکہ میں ٹریجڈی Tragedy in Mecca کے عنوان سے ایک نوٹ لکھا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۹ میں کچھ انتہا پسندوں نے مکہ کے حرم میں داخل ہو کر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد فوج نے حرم کا محاصرہ کر لیا اور انتہا پسندوں پر گولی چلائی گئی جس کے نتیجہ میں ۴۰۰ آدمی مر گئے۔ ۱۹۸۷ میں ایرانی حاجیوں کا تصادم دوسرے حاجیوں سے ہوا۔ اس موقع پر بھی امن قائم کرنے کے لئے گولی چلانی پڑی اور ۴۰۰ آدمی مر گئے۔ ۱۹۹۰ میں ایک ٹنل سے گزرتے ہوئے حاجیوں میں بھگڑڈ میں ۱۴۲۶ حاجی دب کر مر گئے۔ اب ۱۹۹۳ کے حج میں رمی جمرات کے موقع پر بھگڑڈ ہوئی اور اس میں ایک ہزار سے زیادہ حاجی دب کر ہلاک ہو گئے۔ اس قسم کی ہلاکت اگر ہندوستان میں ہو تو فوراً تمام مسلم رہنما اخباروں میں بیان شائع کریں گے جس میں انتظامیہ کی مذمت کی گئی ہو۔ مگر سعودی عرب میں اس قسم کے واقعات پر کسی ایک عالم نے بھی سعودی حکومت کو ذمہ دار قرار دے کر کوئی مذمتی بیان شائع نہیں کیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مذکورہ واقعات پر علماء کو سعودی حکومت کی مذمت کرنا چاہئے۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ہمارے علماء اور رہنماؤں کو ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے لئے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ یا تو دونوں جگہ بولیں یا دونوں جگہ چپ رہیں۔ الرسالتہ مشن کی عمر تقریباً اتنی ہی ہے جتنی کہ میری عمر ہے۔ اگرچہ الرسالتہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader