Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

نام سے وہ باقاعدہ طور پر ۱۹۷۶ میں شروع ہوا۔ اس مشن کا مقصد یہ تھا کہ موجودہ مسلم نسلوں کے لئے اسلام کو از سر نو دریافت بنایا جائے۔ اور اسی کے ساتھ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں داعی ۔ مدعو کا رشتہ قائم کیا جائے تاکہ دعوت کا عمل دوبارہ جاری ہو سکے۔ مگر بظاہر یہ سادہ سا کام اتنا زیادہ مشکل ہے کہ اس سے زیادہ مشکل کوئی اور کام نہیں۔ اسلام کو دریافت بنانے کے لئے تنقید کا اسلوب ناگزیر ہے۔ مگر آج کوئی تنقید سننے کے لئے تیار نہیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنے کے لئے مدعو کے حق میں کلمات خیر کہنا پڑتا ہے، اور مسلمانوں کا موجودہ مزاج یہ ہے کہ مدعو کے حق میں کلمات خیر کو سنتے ہی وہ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ ۳۰ مئی ۱۹۹۳ اس سال نارتھ انڈیا میں اتنی سخت گرمی پڑی ہے کہ پچاس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔ بعض مقامات پر نقطۂ حرارت تقریباً ۵۰ درجہ تک پہنچ گیا ہے۔ عوام اس گرمی میں مر رہے ہیں یا بیمار ہو رہے ہیں۔ خواص نے کولر اور ایئر کنڈیشر لگا کر مصنوعی طور پر اپنے گھر ایسا ماحول بنا لیا ہے کہ گرمی کی شدت اب ان کے لئے اخبار کی ایک خبر ہے نہ کہ کوئی ذاتی تجربہ۔ بظاہر ایک مصیبت میں ہے اور دوسرا آرام میں۔ مگر دونوں میں سے کوئی نہیں جس نے قدرت کے اس واقعہ سے کوئی گہرا سبق لیا ہو۔ اول الذکر اگر رَبِّی اَبَانِی کی تصویر بنا ہوا ہے تو ثانی الذکر رَبِّی اَکْرَمَن کی تصویر ۔ ۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۳ سعید بن حسن الحلبی ۱۱۸۸ھ میں حلب میں پیدا ہوئے۔ ۱۲۵۹ھ میں دمشق میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ حنفی تھے اور اپنے زمانہ میں شام کے بڑے فقیہ شمار کئے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز وہ دمشق کی مسجد میں درس دے رہے تھے۔ کسی وجہ سے وہ اپنا پاؤں پھیلائے ہوئے تھے۔ اسی دوران شام کا حاکم ابراہیم پاشا (م ۶۱۲۶۲) ادھر سے گزرا۔ شیخ کا درس سننے کے شوق میں وہ مسجد میں داخل ہوا۔ وہ شیخ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، لیکن شیخ بدستور اپنا پاؤں پھیلائے رہے۔ اور اپنے درس میں مشغول رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page