آغازِ کلام
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ نہ حاکم کی طرف متوجہ ہوئے اور نہ اپنا پاؤں سمیٹا۔ کچھ دیر کے بعد ابراہیم پاشا واپس چلا گیا۔ لوگ ڈرے کہ اب شیخ کے خلاف کوئی سخت حکم جاری ہوگا۔ مگر اس کے برعکس ابراہیم پاشا نے واپسی کے بعد دینار ( سونے کا سکہ) سے بھری ہوئی ایک تھیلی شیخ کی خدمت میں بھیجی۔ شیخ نے تھیلی قبول نہیں کی اور یہ کہہ کر اس کو واپس کر دیا کہ تم اپنے آقا سے میرا سلام کہنا اور یہ کہہ دینا کہ جو آدمی اپنا پاؤں پھیلاتا ہے وہ اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتا : سلّم علي مولاك وقتل له إنّ الذي يمد رجله لا يمدّيد یہی یہی قصہ ہندوستان کے مشہور بزرگ نظام الدین اولیاء کے بارہ میں بتایا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول دین میں نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے یہاں ایسا کوئی واقعہ نہیں پایا جاتا۔ یہ واضح طور پر مومنانہ تواضع کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے قصہ میں عجب کی نفسیات جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور عجب اور تقویٰ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ اس قصہ کو اگر صحیح مانا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مذکورہ دونوں بزرگ تقویٰ کے مقام پر نہ تھے، اس لئے میں کہتا ہوں کہ یہ ایک گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ وہ قصہ گویوں کی ایجاد ہے۔ وہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں۔ یکم جون ۱۹۹۴ ایودھیا کی بابری مسجد کو ہندوؤں کے ایک ہجوم نے ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو توڑ دیا۔ اب ہندوستان کے علما کا موقف یہ ہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ عین اسی مقام پر بنایا جائے۔ اس مطالبہ کے جواز کے لئے وہ فقہاء اسلام کا یہ مسلک بیان کرتے ہیں کہ" مسجد از قیام تا قیامت از فرش تا عرش مسجد رہتی ہے۔" اگر یہ مسلک اتنا ہی قطعی اور حتمی ہے تو کیا یہ مسلک صرف ہندوستان کی ایک خاص مسجد کے لئے ہے۔ ہندوستان میں ۱۹۹۲ میں اور اس کے بعد ہزاروں مسجدیں کسی نہ کسی وجہ سے ڈھائی گئی ہیں۔ خود ایودھیا میں عین اسی دن ایک درجن مزید مسجدیں ڈھائی گئی ہیں۔ مگر ان دوسری ہزاروں مسجدوں کے لئے یہ علما وہ مطالباتی مہم لے کر نہیں اٹھے جس کا مظاہرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader