آغازِ کلام
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے بابری مسجد کے لئے کیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، تین مسجدوں کو چھوڑ کر تمام مسجدیں یکساں حیثیت رکھتی ہیں۔ پھر ان نام نہاد علماء کو یہ حق کس شرعی اصول کی بنا پر ملا کہ وہ ایودھیا کی ایک مسجد کو استثنائی حیثیت دے سکیں۔ اسی طرح بیشتر مسلم ملکوں میں مسجدیں ڈھائی گئی ہیں۔ اور اس کا باقاعدہ ثبوت موجود ہے۔ مثلاً مصر میں، شام میں، الجزائر میں ، عراق میں، پاکستان میں اور خود سعودی عرب میں۔ مگر ان علماء نے مذکورہ بالا فقہی اصول کی بنا پر ایسا نہیں کیا کہ وہ ان مسلم ملکوں سے منہدم مساجد کی اسی مقام پر تعمیر نو کا مطالبہ کریں۔ اور جب وہ اس مطالبہ کو نہ مانیں تو وہ ان مسلم ملکوں سے تعلق توڑ دیں۔ یہ دو عملی سراسر خلاف اسلام ہے، اور شریعت میں اسی کا نام منافقت ہے ۲ جون ۱۹۹۳ اوکھلا کے علاقہ میں مسلمانوں کی ایک کالونی ہے جس کا نام ذاکر باغ ہے۔ یہاں کالونی سے متصل مسجد کی ایک جگہ تھی۔ مگر کئی سال تک وہاں مسجد کی تعمیر نہ ہوسکی۔ خانہ خالی را دیوی گیرید کے اصول پر یہاں ایک ہندو نے کچھ مورتیاں رکھ کر اسے مندر کی صورت دے دی ۔ اور پوجا پاٹ شروع کر دیا۔ قریبی علاقہ کے ہندو وہاں آنے لگے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ تھا۔ مگر کالونی کے کچھ سمجھ دار لوگوں نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ اگر اس ایشو پر جوش دکھایا گیا تو فساد ہوگا اور وہ لوگ ہماری پوری کالونی کو جلا دیں گے۔ انھوں نے خاموشی سے سوچ کر ایک منصوبہ بنایا۔ اس طرح کے مندر عام طور پر تجارتی مقصد کے تحت بنائے جاتے ہیں۔ ایک آدمی نے مندر کے پجاری سے تنہائی میں ملاقات کی اور کہا کہ تم جو جگہ بتاؤ وہاں ہم ان مورتیوں کو اٹھاکر رکھ دیں گے۔ تم رکاوٹ نہ ڈالو، ہم تم کو دو لاکھ روپیہ نقد دے دیں گے۔ پجاری اس پر راضی ہوگیا۔ اس کے بعد انھوں نے مقامی پولیس اسٹیشن سے رابطہ پیدا کیا اور اس کو ۲۵ ہزار روپیہ دیدہے۔ اس طرح پجاری اور پولیس کو راضی کرلیے کے بعد رات کے اندھیرے میں کچھ مسلم نوجوان ایک ٹرک لے کر آئے۔ انھوں نے مورتیوں کو اور وہاں کی تمام چیزوں کو آہستگی سے اٹھا کر ٹرک پر لادا اور مقرر مقام پر لے جا کر نصب کر دیا۔ اور راتوں رات عارضی مسجد بنا دی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader