Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح کو جب مقامی ہندوؤں نے دیکھا کہ مورتیاں غائب ہیں تو انہوں نے شور کیا اور پولیس والوں کو بلا کر لائے۔ مسلمانوں نے پولیس والوں سے کہا کہ ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں۔ دیوی جی خود اپنی مرضی سے یہاں سے اٹھ کر فلاں جگہ چلی گئی ہیں، وہاں جا کر دیکھ لو۔ پولیس کی ہراہی میں ہندو وہاں گئے۔ دیکھا تو واقعی وہاں مورتیاں موجود تھیں۔ اب پولیس والوں نے ہندوؤں سے کہا کہ دیوی جی نے جب خود اپنی مرضی سے اپنا استھان بدل لیا تو اب ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ یہ واقعہ آج جناب ضیاء الرحمن صاحب دہلوی نے بتایا۔ ۴ جون ۱۹۹۳ء دہلی ۔ جے پور روڈ پر ایک ٹاؤن دیور والا ہے۔ یہاں ایک راجپوت لڑکی روپ کنور کی شادی ایک راجپوت لڑکے سے ہوئی۔ جلد ہی ہم ستمبر ۱۹۸۴ء کو شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت روپ کنور کی عمر صرف ۱۸ سال تھی۔ بیوہ ہونے کے بعد روپ کنور نے ۱۹۸۴ء میں ستی کی مقدس رسم کے مطابق خود سوزی کے ذریعہ اپنا خاتمہ کر لیا۔ پولیس کے بیان کے مطابق اس واقعہ کے وقت وہاں تقریبًا ایک ہزار آدمی مشاہد کے طور پر موجود تھے۔ ٹاؤن کے لوگ اس واقعہ کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔ نکاح کے وقت شادی پارٹیاں وہاں جاتی ہیں اور اس کو نیک فال سمجھتی ہیں۔ اب تک وہاں ستی کا ایک نشان کھبے کی شکل میں قائم تھا۔ اب وہاں باقاعدہ روپ کنور مندر بنایا جانے والا ہے۔ ہائی کورٹ کی طرف سے اس مقام پر مجمع کرنے کی ممانعت ہے۔ اس کے باوجود واقعہ کے ۱۳ دن بعد وہاں چنری مہوتسو کے نام سے ایک میلا ہوا جس میں تقریبًا تین لاکھ آدمی اکٹھا ہوئے ۔ ہر سال ستی کے دن ہزاروں آدمی اس مقام پر جمع ہوتے ہیں تاکہ ستی ماتا کا آشیرواد حاصل کریں۔ پائیر (یکم جون ۱۹۹۴) میں نینا سیتھ (Ninad D. Seth) نے اس قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے انڈیا ٹوڈے کا تبصرہ نقل کیا ہے کہ ایک واحد ستی نے ہندوستان کو ۲۱ ویں صدی میں داخل ہونے سے روک دیا: It took a single sati to stop the Indian march into the 21st century. اس قسم کی رسوم کا خاتمہ تعلیم میں اضافہ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page