Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

الور (راجستھان) میں ایک مولانا محمد حنیف صاحب ہیں۔ وہ پابندی سے رسالہ پڑھتے ہیں۔ ایک بار ان سے ایک میو غصہ ہو گیا۔ وہ ان کو گالی دینے لگا۔ مولانا حنیف صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ کھڑے ہوۓ ہنستے رہے۔ میو نے کہا کہ میں تم کو گالی دے رہا ہوں اور تم ہنس رہے ہو۔ آخر کیوں۔ مولانا حنیف صاحب نے جواب دیا کہ میں تو تمھاری جہالت پر ہنس رہا ہوں یہ سن کر میو بہت شرمندہ ہوا اور ان سے معافی مانگنے لگا۔ مولانا حنیف صاحب اس وقت الور شہر کی جامع مسجد میں امام ہیں۔ ۵ جون ۱۹۹۳ ہندوستان ٹائیمس (۲۲ جون ۱۹۹۳) میں واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ آخری صفحہ پر چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے ایک سیاسی لیڈر لی ہیملٹن (Lee Hamilton) نے ۲۹ اپریل ۱۹۹۳ کو واشنگٹن میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کو بین اقوامی سرحد مان کر جموں اور کشمیر کی تقسیم کر دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تجویزیں جن میں جموں و کشمیر میں استصواب رائے کے لئے کہا گیا تھا وہ اب تاریخ کی نذر ہو چکی ہیں: The UN resolutions that envision a plebiscite in Jammu & Kashmir have been overtaken by history. امریکہ میں پاکستان کی خاتون سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کشمیر کے عوام کا کام ہے۔ عوام کی خواہشات کا اظہار ہی وہ بنیاد ہے جس پر کشمیر کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے گا: The popular expression of the wishes of the people will be the basis for a settlement. یہ صرف کشمیر کا معاملہ نہیں۔ بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی سوچ یہی ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ لینا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ مستقبل کا فیصلہ جو چیز کرتی ہے وہ تاریخ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page