آغازِ کلام
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
کی طاقتیں ہیں نہ کہ کسی کی اپنی طاقت۔ کشمیر کے عوام کے لئے اپنی خواہش کے استعمال کا موقع ۱۹۴۷ میں تھا۔ اس وقت انہوں نے غلطی کر کے اس معاملہ کو تاریخ کے ہاتھ میں دے دیا۔ اب ان کے لئے دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں یا تاریخ کی چٹان سے ٹکر اکر اپنے آپ کو تباہ کر لیں۔ ۷ جون ۱۹۹۴ء زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہے۔ زندگی کا نظام قانون سے زیادہ روایات پر چلتا ہے۔ کسی روایت کو توڑنے سے آخری حد تک بچنا چاہئے کیوں کہ ایک بار اگر روایت توڑ دی جائے تو اس کے بعد کسی بھی چیز کے ذریعہ اس کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ روایت بنانے یا توڑنے کا یہ کام سب سے زیادہ بڑے لوگ کرتے ہیں۔ اس لئے بڑے لوگوں کو اس معاملہ میں اور بھی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ خلیفہ بنیں ۔ مگر آپ نے ان کو نامزد نہیں فرمایا۔ اسی طرح آپ نے خلیفہ کے انتخاب کے لئے شور مٰی (جمہوریت) کی روایت قائم کی۔ یہ سیاسی روایت آپ کے بعد ایک عرصہ تک چلتی رہی۔ حضرت امیر معاویہ نے اس روایت کو توڑا اور اس کی جگہ اپنے بیٹے کی جانشینی کی روایت قائم کی۔ اس کے بعد اسلام کی سیاسی تاریخ اسی رخ پر چل پڑی۔ اورنگ زیب نے اس روایت کو بھی باقی رہنے نہیں دیا۔ اس نے اپنے باپ کو معزول کر کے اسے قید کر دیا۔ اپنے بھائی کو تہ تیغ کیا۔ اور زبر دستی مغل تخت پر بیٹھ گیا۔ اس طرح اس نے حکومت میں چھین جھپٹ کی روایت قائم کی جو اس کے بعد جاری ہوگئی۔ یہاں تک کہ سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہوگئی۔ خواہ گھر کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ یا حکومت کا معاملہ، ہر جگہ قائم شدہ روایات کا آخری حد تک احترام کرنا چاہئے۔ خاص طور پر بڑے لوگوں کو توڑ روایت شکنی کے قریب بھی نہیں جانا چاہئے۔ کیوں کہ یہ دراصل سماج کے بڑے لوگ ہیں جو کسی روایت کو قائم کرتے ہیں یا کسی بنی ہوئی روایت کو توڑ دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader