آغازِ کلام
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد اسماعیل صاحب ناگپور کے رہنے والے ہیں۔ (539563 .Tel) وہ پراپرٹی ڈیلر ہیں۔ اور اسی کے ساتھ تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اپریل ۱۹۹۳ میں ناگپور میں تبلیغی جماعت کا جلسہ ہوا۔ یہ لوگ کھلی زمین پر شامیانہ لگا کر جلسہ کرتے ہیں۔ پہلے انھوں نے ایک مسلمان کی زمین منتخب کی۔ مگر اس مسلمان نے جلسہ کے لئے زمین دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انھوں نے جائزہ لیا تو ایک اور خالی زمین انھیں جلسہ کے لئے موزوں نظر آئی۔ یہ زمین ایک ہندو کی تھی جو کہ آر ایس ایس کا ممبر ہے اور کٹر آر ایس ایس کا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہندو زمین دینے پر راضی ہو گیا۔ چنانچہ اسی زمین پر شامیانہ لگا کر جلسہ کیا گیا۔ مولانا اسماعیل صاحب سے ۶ جون کو ہمارے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہمارے بارہ میں جو جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اس کی حقیقت آپ اپنے اس تجربہ سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیا ناگپور کے اس واقعہ کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہو گا کہ تبلیغ والے آر ایس ایس کے ایجنٹ ہیں۔ وہ مسلمانوں سے کٹ گئے ہیں۔ ۸ جون ۱۹۹۳ قرآن کی جو تفسیریں ہیں اور حدیث کی جو شرحیں لکھی گئی ہیں، ان سب میں ایک مشترک کمی ہے۔ ان میں فنی انداز کی تفصیلات تو کافی ملتی ہیں مگر سبق آموز اور نصیحت والی باتوں پر ان میں بہت کم مواد ملتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لهم (الاحقاف ۳۵) اس آیت کی تشریح میں مفسرین سب سے زیادہ اس پر بحث کرتے ہیں کہ اولوالعزم پیغمبر کون کون ہیں۔ کسی نے کہا چھ ہیں، کسی نے کہا اٹھارہ ہیں۔ کسی نے کہا کہ سارے ہی انبیاء اولوالعزم تھے اور یہاں من تجنیس کے لئے ہے نہ کہ تبعیض کے لئے (القرطبی ۲۲۰/۱۶) حالانکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عاجلانہ روش کے مقابلہ میں صبرانہ روش کی اہمیت بتائی جائے ۔ اسی طرح حدیث میں مثلاً حضرت عائشہ کے واقعہ کو لیجئے ۔ رات کے وقت انھوں نے رسول اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader