Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

کو حجرہ میں نہیں پایا۔ تلاش کرنے کے لئے نکلیں۔ ان کا خیال تھا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے یہاں چلے گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ مسجد میں نماز میں مشغول تھے۔ اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے حضرت عائشہ کا ہاتھ آپ کے پاؤں پر چلا گیا۔ اب شراح ساری بحث اس پر کرتے ہیں کہ عورت کے چھونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں۔ حالانکہ اس روایت میں سبق کے لحاظ سے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غلط فہمی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ ام المومنین کو پیغمبر اعظم کے بارے میں بھی بے بنیاد غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس لئے جب غلط فہمی پیدا ہو تو ہمیشہ تحقیق کرنا چاہئے۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ۳/ ۲۰۳) ۹ جون ۱۹۹۳ء دہلی کے ایک اردو ماہنامہ میں باکس کے اندر یہ نوٹ تھا : بوسنیا ہرزیگووینا کی نیشنل لائبریری ایک صدی قبل سرایفیو میں قائم کی گئی تھی۔ یہ دریائے سرایفیو کے کنارے ایک وسیع قطعہ اراضی میں ہے۔ اس کے اندر ایک عمدہ گارڈن ہے اور لائبریری کی عالی شان عمارت کے ساتھ ایک جدید لائبریری کے تمام وسائل اسے حاصل تھے۔ اس میں مختلف علوم وفنون کی ۲۵ لاکھ کتابیں تھیں۔ اگست ۱۹۹۲ میں سر بی وحشیوں نے اس لائبریری پر گولہ باری کی جس سے اس کی عمارت ڈھ گئی اور ۲۰ لاکھ کتابیں جل کر خاکستر ہوگئیں (الرحیق فروری ۱۹۹۳) مذکورہ مسلم رسالہ نے یہ تو بتایا کہ بوسنیا کی عظیم لائبریری اگست ۱۹۹۲ میں تباہ کر دی گئی۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ اس سے پہلے ایک سوسال تک وہ کیوں تباہ نہیں کی گئی تھی۔ حالاں کہ واقعہ کا دوسرا پہلو پہلے پہلو سے زیادہ اہم ہے۔ ۱۰ جون ۱۹۹۳ مسٹر شکیل احمد انجینئر دوبئی میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ ایک بڑا اکابروبار کر رہے ہیں۔ اس میں اس کے پارٹنر سویڈن کے مسٹر اینڈر سن ہیں۔ مسٹر شکیل احمد نے بتایا کہ ایک روز وہ مسٹر اینڈر سن کے ساتھ گاڑی پر جا رہے تھے۔ اینڈر سن گاڑی چلا رہے تھے۔ ایک جگہ انہوں نے آئس کریم خریدی اور گاڑی کے اندر چلتے ہوئے کھانے لگے۔ انھوں نے مسٹر شکیل کو بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page