آغازِ کلام
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
آیس کریم دی۔ شکیل صاحب نے صرف ایک آئس کریم لی اور کہا کہ اس کار پر گاڑی کے باہر پھینک دیا ۔ اینڈرسن آئس کریم کھاتے ہوئے اس کا سپر پلاسٹک بیگ میں رکھتے جا رہے تھے۔ مسٹر اینڈرسن نے جب دیکھا کہ شکیل صاحب نے آئس کریم کا کاغذ باہر سڑک پر ڈال دیا ہے تو انھوں نے فورا گاڑی روک دی اور کہا کہ شکیل ، اس کو اٹھاؤ ۔ شکیل صاحب گاڑی سے اترے اور پھینکا ہواپر پر واپس لے آئے۔ اینڈرسن نے بتایا کہ ہم لوگوں کی ٹریننگ بچپن سے اس طرح ہوتی ہے کہ ہم ایسی حرکت سوچ نہیں سکتے۔ ہم اپنے بچوں کو شروع ہی سے شہری آداب اور ڈسپلن سکھاتے ہیں۔ اگر وہ سمجھانے سے نہ مانیں تو ہم ان کو ڈانٹتے ہیں۔ اس سے بھی کام نہ چلے تو مارتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ڈسپلن ہم لوگوں کے مزاج میں اور ہماری عادت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ۱۱ جون ۱۹۹۴ء جاوید مصطفی رفیقی کشمیری (پیدائش ۱۹۵۳ء، جموں وکشمیر بنک (لاچپت نگر) میں نیجر ہو کر آئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ سرینگر میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ میں اپنی چار سالہ بچی سورہ کے ساتھ گاڑی میں سرینگر کی سڑک پر چل رہا تھا۔ راستہ میں انڈین فوج کے کچھ افراد دکھائی دئے۔ اس نے پوچھا کہ ڈیڈی ، ان فوجیوں کو کس نے بنایا ہے۔ رفیقی صاحب نے جواب دیا کہ اللہ پاک نے بچی نے پھر پوچھا کہ ہم کو کس نے بنایا ۔ رفیقی صاحب نے دوبارہ کہا کہ اللہ پاک نے بچی نے کہا کہ اللہ پاک کو اگر ہمیں پیدا کرنا تھا تو اس نے ان فوجیوں کو کیوں پیدا کر دیا۔ رفیقی صاحب نے کہا کہ کیوں۔ بچی نے کہا کہ یہ فوجی ہم کو مارتے ہیں۔ پھر اللہ پاک یا تو ہم کو پیدا کرتے یا پھر انھیں لوگوں کو پیدا کرتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کتنی زیادہ نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ہر جگہ ایسی سیاستیں چلائیں جس نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت ہی نفرت پیدا کر دی۔ اس کشمیری بچی کی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جدید نسل کس طرح پر پرورش پا رہی ہے۔ مسلمانوں کا موجودہ ماحول اپنے بچوں کو یہ بتا رہا ہے کہ انڈین آرمی ہم کو مارتی ہے۔ مگر ماحول نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader