آغازِ کلام
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
احساسِ شکر سے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر آج انسان کا یہ حال ہے کہ نعمتوں کے ہجوم میں وہ شکر گزاری کے جذبے سے محروم ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ لوگوں میں صرف شکر کا جذبہ بیدار ہو جائے تو تمام جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ تمام جھگڑے احساس محرومی پر ابھرتے ہیں۔ شکر کا جذبہ احساسِ یافت میں آدمی کو غرق کر دیتا ہے۔ اس کے بعد محرومی کا احساس باقی نہیں رہتا۔ اس لئے جھگڑے کی نوبت بھی نہیں آتی۔ ۱۷ فروری ۱۹۹۳ دن کے بارہ بجے ہیں۔ کھڑکی کے باہر پارک کی طرف سے چڑیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بظاہر یہ چڑیوں کی آواز میں ہیں۔ مگر جیسا کہ قرآن میں بہت آیا گیا ہے کہ یہ حمد خداوند ی کے نغمے ہیں۔ انسان اگر چڑیوں کی آوازوں میں خدا کے گیت سننے لگے تو اس کی زندگی یکسر بدل جائے ۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۳ ۱۸ فروری کو میں پونہ میں تھا، ہم لوگوں کی شاتی یاترا (دسمبر ۱۹۹۲) کا ویڈیو فلم جو شانتی لال موتھا (پونہ) نے تیار کرایا ہے، اس کو آج حاجی یونس صاحب (نیو ایرا) کے مکان پر دیکھا۔ بہت کامیاب ریکارڈنگ تھی۔ اس میں میں نے دیکھا کہ بستی بستی میں ہندو لوگ ہزاروں کی تعداد میں شانتی یاترا کے ساتھ سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ آگے آگے سادھوی کے گیت کا کیسٹ بج رہا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔ میں نے کہا کہ خدایا ، یہی میری دعا ہے اور یہی میری تمنا ہے کہ ہند و قوم کو ایمان کی توفیق ملے اور قیامت کے دن وہ آپ کی حمد کے گیت گاتے ہوئے جوق در جوق جنت کے دروازوں کی طرف جا رہے ہوں ۔ ہندو لوگ میرے ہم وطن اور میرے پڑوسی ہیں۔ ان سے مجھے بے پناہ محبت ہے۔ ہندوؤں کی ہدایت اور ان کی نجات کے لئے میں برسہا برس سے تڑپتا رہا ہوں۔ میں نے ان کے لئے بہت بار آنسو بہائے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ کبھی کوئی غیر پیغمبر کسی قوم کی ہدایت کے لئے اس طرح رویا ہو گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader