Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے بچوں کو یہ نہیں بتایا کہ ۱۹۸۲ سے پہلے وہ ہم کو نہیں مارتے تھے۔ جب ہم نے گن کلچر ملا کر ان سے ٹکرائو مول لیا تو انھوں نے مارنا شروع کیا۔ اس سے پہلے کشمیر میں مکمل امن تھا۔ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت یہی ہے کہ آدمی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جو لوگ حالات سے اوپر نہ اٹھ سکیں وہ کبھی کوئی بڑی منصوبہ بندی نہیں کرسکتے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بتاتی ہے کہ آپ نے ہمیشہ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے ہمیشہ حال کے مقابلہ میں مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنی رائے قائم کی۔ ۱۲ جون ۱۹۹۳ء محمود عالم صدیقی (۴۰ سال)، ادگیر (ضلع لاتور) جہاں اتر، کے رہنے والے ہیں انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھانے کے بعد ہمارے علاقہ میں ہر جگہ فساد ہوا۔ لیکن ادگیر محفوظ رہا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم کئی سال سے اپنے یہاں کے نوجوانوں میں الرسالہ والی سوچ پیدا کر رہے ہیں۔ ۶ دسمبر کی رات کو زی ٹی وی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ بابری مسجد ڈھا دی گئی ۔ ہم نے رات ہی کو نوجوانوں کو جمع کیا۔ کل ایکاون لڑکے جمع ہوئے۔ وہ بھی جوش میں تھے۔ مگر ہم نے الرسالہ کی پالیسی کی اہمیت بتائی۔ آخر سب ماضی ہو گئے ۔ اب ہم لوگ بستی میں نکلے کہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کریں اور انھیں رد عمل سے بچائیں کیونکہ رد عمل کی صورت میں یقینی تھا کہ اجودھیا کا نقصان یہاں تک پہنچ جائے گا۔ لیکن ادگیر میں تین لوکلی لیڈر تھے جو مسلمانوں کی میٹنگ کرکے ان کو جہاد اور ایکشن پر ابھار رہے تھے۔ ہم نے کہا کہ اجودھیا میں جو ہوا سو ہوا ۔ اب کیا آپ لوگ یہاں بھی اس کو دہرانا چاہتے ہیں۔ مگر کوئی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ آخر ہم خاموشی سے مقامی ڈیٹی کلکٹر سے ملے۔ اس سے کہا کہ ہم لوگ امن بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہاں تین آدمی مسلمانوں کو بھڑکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ ان تینوں کو گرفتار کر لیجئے ۔ انھیں کوئی تکلیف دئے بغیر چند دن تک بند رکھئے۔ انھوں نے فوراً تینوں آدمیوں کو اٹھالیا اور ان کو اپنے یہاں روک لیا۔ اب ہمارا مشن کامیاب ہو گیا ۔ ادگیر کے مسلمان احتجاج اور تشدد سے باز رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page