Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ ادگیر میں نہ فساد ہو اور نہ کرفیو لگے۔ ایک سعودی مجلہ ہے۔ اس کا نام المجلہ ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر جدہ میں ہے اور وہ لندن سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا شمارہ ۱۲ جون ۱۹۹۴ دیکھا۔ صفحہ ۹۲ پر مراسلات کے کالم میں ولیس بن صالح انمی کی تحریر چھپی ہے۔ وہ ایک عرب ہیں اور جار جیا (امریکہ) میں رہتے ہیں۔ اس کا عنوان ہے۔ اسلام ہماری تمام مشکلوں کے حل پر قادر ہے : الاسلام و قادر علی حل جميع مشكلاتنا اس میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے پاس ایک قانون ہے جس میں کوئی غلطی نہیں۔ اس قانون کی طرف واپس جاکر ہم اپنی تمام مشکلوں کو حل کر سکتے ہیں۔ اس کے لکھنے والے غالباً کوئی اخوانی ہیں۔ میں نے اس کو پڑھا تو میں نے کہا کہ مشکلات کے حل کو قانون سے جوڑنے کا یہی نظریہ مسلمانوں کی تمام موجودہ مشکلوں کا اصل سبب ہے۔ اس لئے کہ اس حل کو بروئے کار لانے کے لئے ارباب اقتدار کو اقتدار سے ہٹائے بغیر اسلامی قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ اسی نام نہاد انقلابی نظریہ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اہل سیاست سے ٹکراتے ہیں اور غیر ضروری طور پر مصائب اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل دعوت ہے نہ کہ نفاذ قانون۔ دعوت سے امن کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور نفاذ قانون کے نظریہ سے گن کلچر کا ماحول۔ دعوت سے پر امن جد و جہد ظہور میں آتی ہے اور تنفیذ قانون کے نظریہ سے تشدد دانہ جد و جہد۔ پر امن جد و جہد مسائل کو گھٹاتی ہے، جبکہ کہ تشدد دانہ جد و جہد مسائل کو بے اندازہ حد تک بڑھا دیتی ہے۔ ۱۵ جون ۱۹۹۴ آج کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں مڑجے ایس بندوق والا کا لیٹر چھپا ہے اس میں انھوں نے مسلمانوں کے جذباتی انداز فکر کا تذکرہ کرتے ہوئے میرے بارے میں لکھا ہے کہ وہ مسلمانوں میں کافی مقبول ہو رہے تھے، مگر جب وہ ناگپور میں آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page