آغازِ کلام
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
میں گئے تو مسلمانوں میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا : Maulana Wahiduddin too had to suffer a setback when he visited the RSS headquarters. اسی لیٹر میں مکتوب نگار یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ۶ دسمبر ۹۲ کے بعد مسلمانوں کا مزاج بدلا ہے اور ایودھیا جیسے جذباتی ایشوز پس پشت چلے گئے ہیں : Emotional issues such as Ayodhya have taken a back seat. یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ۱۶ جون ۱۹۹۳ دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے عید گاہ کے سلاٹر ہاؤس میں ذبح کئے جانے والے جانوروں کی تعداد بہت گھٹا دی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس سے گندگی پھیلتی ہے اور دہلی کی ہوا خراب ہوتی ہے۔ دہلی میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے اس حکم کے خلاف دہلی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے فیصلہ دیا کہ روزانہ صرف ڈھائی ہزار جانور ذبح کئے جاسکتے ہیں۔ ۵۰ بھینس اور دو ہزار بکرے۔ دہلی کے قصائیوں نے ۲۳ مارچ سے مکمل ہڑتال شروع کردی۔ اور ذبح کا کام بالکل بند کر دیا۔ قصاب پورہ کا ایک وفد میرے پاس آیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے اسٹرائیک کرکے سخت غلطی کی ہے۔ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اجازت کے مطابق، موجودہ تعداد ذبح کرتے رہتے اور بقیہ کے لئے پرامن اور قانونی کوشش جاری رکھتے۔ مگر اس وقت لوگ جوش میں تھے۔ کسی نے میری بات نہیں سنی۔ اب خود ہی انھوں نے ۱۶ جون کی صبح سے بلاشرط اپنی اسٹرائیک ختم کر دی ہے۔ دہلی میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے ایک ممبر محمد یونس قریشی نے ہندوستان ٹائمس (۱۶ جون) کی رپورٹ کے مطابق کہا کہ ورکر فاقہ کر رہے تھے اور اب مزید اسٹرائیک جاری رکھنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader