آغازِ کلام
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمس آف انڈیا (۱۷ جون) کی رپورٹ کے مطابق، دہلی میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر معین الدین قریشی نے کہا کہ، ہم مصالحت پر مجبور ہو گئے تھے۔ بہت سے غریب قصاب اور رمز دور اسٹرائیک سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے: میرے نزدیک یہ کمپرومائز نہیں ہے بلکہ سرینڈر ہے۔ شروع میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد اگر وہ ایسا کرتے تو وہ کمپرومائز ہوتا۔ مگر اب انھوں نے مجبوری کے تحت کیا ہے اس لئے وہ سرینڈر ہے۔ اب انھیں اس فیصلے پر کمپرومائز کرنے کا کریڈٹ نہیں دیا جا سکتا۔ ۱۷ جون ۱۹۹۳ء آج میں نظام الدین ویسٹ کے پارک میں ٹہلنے کے لئے گیا۔ وہاں ایک جگہ ہندو اور سکھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے مجھ کو بھی بلا کر بٹھالیا۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہندو اور سکھ تو کلچر کے اعتبار سے تقریباً ایک ہی تھے۔ پھر پنجاب میں دونوں کے درمیان جھگڑا کیوں ہوا۔ ایک سفید ریش سردار نے ہند و حکومت کی شکایت کی۔ اس نے کہا کہ ۱۹۴۷ء میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سرداروں سے کہا تھا کہ آپ لوگ بھی پاکستان کی طرح اپنا ایک ہوم لینڈ بنا سکتے ہیں۔ لیکن نہرو نے ماسٹر تارا سنگھ اور سردار بلدیو سنگھ کو سمجھایا کہ آپ کو الگ خطہ لینے کی کیا ضرورت، سارا بھارت آپ ہی کا ہے۔ مگر بعد کو ہمیں کچھ نہیں دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد انڈین فوج میں سرداروں کی تعداد ۱۸ فیصد تھی، آج ملٹری میں ان کی تعداد صرف ڈیڑھ فیصد ہے۔ اس کا جواب ایک اور سردار نے دیا جو کہ فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اصل وجہ یہ ہے کہ اب سرداروں کو فوج میں زیادہ فائدہ دکھائی نہیں دیتا، زرعی دور میں فوج میں جانے کا فائدہ تھا، اب صنعتی دور میں وہ فائدہ نہیں۔ انھوں نے ایک فوجی سردار کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader