Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

بات دہرائی۔ اس نے کہا کہ میں زندگی بھر فوج میں ملازمت کرنے کے بعد اب ریٹائر ہوا ہوں تو سب کچھ ملا کر مجھ کو ساڑھے سات لاکھ روپیہ ملا ہے۔ آج اتنی رقم سے دہلی میں ایک فلیٹ بھی نہیں خرید سکتا۔ جب کہ میری عمر کے جو لوگ بزنس میں گئے وہ آج دہلی میں کوٹھی اور موٹر کے مالک ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سردار لوگ فوج میں اس لئے کم ہیں کہ وہ پہلے کی طرح اب فوج میں جا ہی نہیں رہے ہیں۔ ۱۸ جون ۱۹۹۳ء دجال کے سلسلہ میں حدیثیں مختلف ہیں۔ کسی حدیث میں دجال (واحد) کا لفظ آیا ہے۔ کسی میں ثلاثون (۳۰) کا لفظ ہے اور کسی میں سبعون (۷۰) کا لفظ۔ ابن حجر العسقلانی لکھا ہے کہ اس سے مراد تحدید نہیں ہے بلکہ کثرت ہے (فتح الباری ۹۳/۱۳) حدیثوں پر غور کرنے سے میری سمجھ میں آتا ہے کہ دجال یا دجاجلہ سے مراد دور پیش کے ائمہ ضلال (گمراہ رہ نما) ہیں۔ دجال کے بارہ میں بخاری کی ایک روایت ہے کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی۔ اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہے اور اس کا پانی آگ ہے (ان معہ ماء و ناراً فناره ماء و ماءه نار) فتح الباری ۹۷/۱۳ اس حدیث میں آتشیں پانی سے مراد غالباً پٹرول ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ دجال یا دجاجلہ صنعتی دور میں ظاہر ہوں گے۔ اور یہی وہ زمانہ ہے جبکہ جدید پریس انسان کے قبضہ میں آچکا ہوگا۔ یہ گمراہ رہ نما خود مسلمانوں میں سے نکلیں گے۔ پٹرول کی دولت انھیں صاحب وسائل بنا دے گی، اور جدید میڈیا انھیں یہ موقع دے گا کہ وہ اعلیٰ ذرائع ابلاغ سے کام لے کر اپنی گمراہ کن باتوں کو ساری دنیا میں پھیلا دیں۔ اس جدید طاقت اور ان جدید وسائل کو استعمال کر کے وہ عالمی سطح پر ایسی گمراہی پھیلائیں گے جیسی گمراہی اس سے پہلے پوری تاریخ میں کسی نے نہ پھیلائی ہو۔ حضرت ابو ہریرہ بنو مروان کی حکومت تک زندہ رہے جس کا ظلم معروف و مشہور ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ کو نام بنام وہ افراد بتا دئے تھے جو بعد کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page