آغازِ کلام
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ میں حاکم ہوں گے اور امت کے معاملات کو تباہ کر دیں گے۔ لیکن آپ نے حضرت ابو ہریرہؓ کو یہ حکم نہیں دیا کہ تم ان سے لڑو نا اور ان پر خروج کرنا ، ابن حجر لکھتے ہیں کہ خروج (بغاوت) میں ہلاکت کا شدید تر اندیشہ تھا۔ اس لئے آپ نے ان کا استیصال کرنے کے بجائے ان کی اطاعت کرنے کی وصیت فرمائی۔ اس طرح آپ نے دو برائی میں سے ہلکی برائی اور دو معاملہ میں سے آسان معاملہ کا انتخاب فرمایا فاختار اخف المفسدتين و ايسر الامرين (فتح الباری ۱۳ / ۱۳) یہی سچی حکمت عملی ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پاکستان میں "حکمت عملیٰ" کا یہ مطلب بتایا کہ صدر ایوب کی غیر مطلوب حکومت کو گرانے کے لئے غیر دینی طریقے اختیار کئے جائیں۔ مثلاً 1965ء کے الیکشن میں ایک خاتون (فاطمہ جناح) کو صدارت کے لئے امیدوار بنا کر صدر ایوب کو ڈوٹاؤن کرنے کی کوشش کرنا۔ مگر یہ ایک لغو سیاست ہے کہ اسلامی حکمت عملی۔ اسلامی حکمت عملی یہ ہے کہ حکمراں سے ٹکراؤ کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرہ کے امکانات کو استعمال کرنا۔ پاکستان میں دعوت و اصلاح اور تعمیر و تعلیم کے میدان میں کام کرنے کے لئے زبردست امکانات تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اگر عملی سیاست سے دور رہ کر ان تعمیری امکانات کو استعمال کرتے تو یہ اسلامی حکمت عملی ہوتی۔ مگر انھوں نے ان امکانات سے صرف نظر کر کے حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع کر دیا۔ یہ صرف فساد انگیزی تھی نہ کہ فی الواقع کوئی اسلامی کام۔ ۲۰ جون ۱۹۹۴ جنرل اروڑا اور کرنل خان دونوں دوست ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے ہمارے دفتر میں آئے۔ گفت گو کے دوران انھوں نے موجودہ ہندوستانیوں میں سوچ کے بگاؤ اور کردار کی خرابی کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ پچھلے ۵۰ سال سے اس رخ پر کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ میں شاید اکیلا ہوں جو اس کوشش میں مصروف ہے اور خدا کے فضل سے ہزاروں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ میں تقریباً ۳۰ سال سے تطہیر فکر اور تعمیر کردار کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ ۱۹۷۷ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader