آغازِ کلام
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
الجمعۃ وکیل کے ذریعہ یہ کام باقاعدہ صحافتی ہم کے طور پر شروع ہوا ۔ ۱۹۷۶ء سے یہی کام ماہنامہ الرسالہ کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔ میری مسلسل کوشش یہ ہے کہ صحت مند فکر اور انسانی کردار کی تخلیق کرنے والے مضامین چھاپے جائیں ۔ اس کے لئے میں روزانہ بہت سے انگریزی اخبارات اور بہت سے انگریزی رسالے پڑھتا ہوں مگر آپ تعجب کریں گے کہ ۱۹۷۶ء سے لیکر آج تک ان اخباروں اور رسالوں میں مجھے کوئی تعمیری آرٹیکل ایسا نہیں ملا جس کو ویسا کا ویسا چھاپ دینا کافی ہو۔ میں ہر دن بہت سی خبریں ، رپورٹیں اور مضامین پڑھتا ہوں پھر ان میں سے کوئی چیز اخذ کر کے اس میں تعمیر کا پہلو نکالتا ہوں۔ اور پھر اس کو مضمون کی صورت میں تیار کر کے اس کو اپنے میگزین میں چھاپتا ہوں ۔ ۲۱ جون ۱۹۹۳ء آج اپنے گھر کی تمام خواتین کو دفتر میں بٹھا کر سمجھایا کہ تم لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ کیوں کہ باہمی اختلاف سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں اعتکاف میں تھے ۔ آپ کو شب قدر کا علم دیا گیا۔ آپ مدینہ کی مسجد سے باہر نکلے کہ مسلمانوں کو اس کی متعین تاریخ بتلا دیں ماس دوران انصار کے دو آدمی لین دین کی بات پر جھگڑنے لگے۔ اس پر شب قدر کا علم اٹھایا گیا ۔ اسی طرح احد کی جنگ میں مسلمانوں کی فتح ہوگئی۔ اس کے بعد کچھ مسلمان آپس میں نزاع کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیتی ہوئی جنگ دوبارہ ہار میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح کی مختلف مثالیں دے کر میں نے کہا کہ آپ لوگ مل جل کر رہیں تو یہاں برکت اور رحمت برسے گی۔ اور اگر جھگڑا اور نزاع شروع کر دیا تو آئی ہوئی برکت ختم ہو جائے گی۔ تمام خواتین رونے لگیں۔ دل سے یہ عہد کیا کہ سب کی سب مل جل کر محبت کے ساتھ رہیں گی۔ اختلاف یا شکایت ہو تب بھی ان کے باہمی تعلق میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہر گھر میں ایسا ہونا چاہئے کہ گھر والوں کا ہفتہ وار یا ماہوار اجتماع گھر کے اندر ہو۔ اس میں گھر کا بڑا مرد یا بڑی عورت لوگوں کو نصیحت کرے ۔ اس سے گھر کے ماحول کو درست رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader