Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاص کی دو قسمیں ہیں ۔ روایتی اخلاص ، اور شعوری اخلاص۔ میرا خیال ہے کہ مسجدوں اور مدرسوں کی دنیا میں جو ” مخلصین“ دکھائی دیتے ہیں وہ سب روایتی اخلاص سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ روایتی اخلاص اوپری سطح پر تقلید کے زور پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد جہاں تک شعوری اخلاص کا تعلق ہے ، وہ ہمیشہ نہایت کم یاب رہا ہے۔ اور موجودہ زمانہ میں ، کم از کم میرے تجربہ میں تو اب تک کوئی شخص نہیں آیا جس کو شعوری اخلاص کا حامل کہا جاسکے۔ روایتی اخلاص اگر تقلید کا نتیجہ ہوتا ہے تو شعوری اخلاص حقیقت اعلیٰ کی ذاتی دریافت کا نتیجہ۔ ۲۳ جون ۱۹۹۴ ایک صاحب نے مجھ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے مشن کے تحت کوئی ادارہ (مثلاً مدرسہ) قائم نہیں کیا۔ اس لئے آپ کی موت کے ساتھ آپ کا مشن بھی مر جائے گا۔ انہوں نے مثال دی کہ سرسید کا بھی ایک مشن تھا۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے علی گڑھ میں ایک تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا۔ سرسید آج اسی تعلیمی ادارہ کی بدولت زندہ ہیں۔ ورنہ اب تک وہ ختم ہو چکے تھے۔ میں نے کہا کہ علی گڑھ میں جو چیز زندہ ہے وہ سرسید کا مشن نہیں ہے ، وہ سرسید کا قائم کیا ہوا ایک عمارتی ادارہ ہے۔ آج سرسید صرف ایک جامد ادارہ کی صورت میں زندہ ہیں۔ اگر انہوں نے ادارہ قائم نہ کیا ہوتا تو وہ ایک زندہ تحریک کی صورت میں تاریخ میں باقی رہتے۔ اور ایک زندہ تحریک بہر حال جامد ادارہ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ۲۴ جون ۱۹۹۴ کشمیر کے بارہ میں میرا پہلا مضمون ۱۹۶۸ میں الجمیتہ ویکلی (دہلی) میں چھپا تھا۔ ۲۵ سال سے میں کشمیر کے بارہ میں برابر لکھتا رہا ہوں۔ میرا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ ملکوں اور قوموں کے فیصلے تاریخی اسباب کے تحت ہوتے ہیں ، پر جوش تحریکوں کے ذریعہ نہیں ہوتے۔ تاریخی عمل نے کشمیر یوں کو ۱۹۴۷ میں ایک موقع دیا تھا۔ مگر نادان کشمیری لیڈروں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page