آغازِ کلام
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو کھو دیا۔ اب دوبارہ کوئی نیا موقع تاریخی عوامل کے تحت ہی آ سکتا ہے۔ کشمیریوں کو چاہئے کہ وہ جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیں۔ وہ ناممکن کی چٹان سے اپنا سر نہ ٹکرائیں بلکہ ممکن کو موجودہ ملے ہوئے دائرہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ۲۰ جون ۱۹۹۴ کو اننت ناگ میں قاضی نثار احمد کا جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل اس معاملہ میں حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب کشمیر کے حالات بدلیں گے۔ اب تک وہاں بندوق بردار نوجوانوں کا غلبہ تھا، اب وہاں کشمیری عوام کا غلبہ ہوگا۔ جو سنجیدہ افراد کی رہنمائی میں اسی راستہ کو اختیار کریں گے جس کی طرف راقم الحروف ۱۹۶۸ سے انھیں متوجہ کر رہا تھا۔ آنچه دانا کند نادان لیک بعد از خرابی بسیار ۲۵ جون ۱۹۹۳ مشہور خطاط محمد تخلیق ٹونکی کا آج اپنے وطن ٹونک میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر ۶۲ سال تھی ۔ وہ ہندوستان کے نمبر ایک خطاط سمجھے جاتے تھے ۔ ابتدا میں وہ جمعیۃ علماء اور ند و ۃ المصنفین سے وابستہ رہے۔ ان اسلامی اداروں نے تخلیق ٹونکی کا صرف استحصال کیا۔ ان کو ترقی کی طرف لے جانے میں انھوں نے کوئی مدد نہیں کی۔ تخلیق صاحب کی ترقی کا دور ۱۹۷۶ سے شروع ہوتا ہے جب کہ شیعہ اور کمیونسٹ وزیر تعلیم پروفیسر نور الحسن نے غالب اکیڈمی ( نئی دہلی ) میں خطاطی کا اسکول کھولا اور تخلیق ٹونکی صاحب کو اس کا انچارج مقرر کیا۔ خطاطی کا یہ اسکول حکومت ہند کی مدد سے قائم ہوا۔ اس کے تحت تخلیق ٹونکی صاحب کو معقول ماہانہ تنخواہ ملنے لگی ۔ اسی کے ساتھ ان کی حیثیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔ چنانچہ مزید کام کر کے وہ کافی پیسہ کمانے لگے ۔ یہاں تک کہ دہلی میں انھوں نے اپنا ذاتی گھر بنایا ۔ اس کے علاوہ حکومت ہند کی جانب سے ۱۹۹۰ میں وہ حج کے لئے سعودی عرب گئے ۔ ان کو بہت سا ایوارڈ دیا گیا۔ نٹ میں لائق افراد آج بھی کثرت سے موجود ہیں ۔ مگر ملی ادارے ان کی قدر دانی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ سے یہ افراد اوپر نہیں اٹھ پاتے۔ تخلیق ٹونکی کے ساتھ جو معاملہ حکومت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader