آغازِ کلام
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
ہند نے کیا۔ اگر یہی معاملہ اسلامی اداروں میں لائق افراد کے ساتھ کیا جائے تو ملت کی پسماندگی بہت جلد ختم ہو جائے ۔ شری ادہم پورنا سو تنترا نئی دہلی میں میل روڈ پر رہتے ہیں۔ کافی ذہین آدمی ہیں۔ اور ان کا بڑا حلقہ ہے۔ وہ نئی دنیا New world بنانے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کی دعوت پر ان کے یہاں ایک میٹنگ میں شریک ہوا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں ایک بات کہی جو مجھ کو بہت پسند آئی۔ انھوں نے کہا کہ کام کا پلان ایسا بناؤ کہ جہاں تم بیٹھے ہو وہیں سے تمہارا سفر شروع ہو جائے ۔ مختلف لوگوں نے اظہار خیال کیا۔ میری بھی ایک مختصر تقریر ہوئی ۔ آخر میں ان کے ایک ساتھی اقبال سنگھ (پڑوٹ) نے ایک گیتا سنائی۔ اس کا ایک مصرعہ یہ تھا ۔ ظلم کو گر مٹانا ہے تو ٹکراؤ ظلم سے یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ جو لوگ ظلم کو دیکھ کر اس سے ٹکرانے لگیں ان کا سفر کبھی شروع ہی نہیں ہو گا ۔ سفر شروع کرنے کے لئے اعتراض کی پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ جماعتیں جب ذہن سازی کے بغیر بنیں تو اسی طرح طرح قسم کے لوگ اس میں بھر جاتے ہیں۔ اسی لئے اس طرح کی جماعتوں کے ذریعہ کوئی حقیقی کام کبھی انجام نہیں پاتا ۔ ۲۷ جون ۱۹۹۳ء موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں بے حسی اور بے بے کر داری دوسری قوموں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی وجہ بظاہر یہ مردجہ عقیدہ ہے کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ کلمہ ایمان آدمی کو جنت میں لے جاتا ہے۔ مگر جنت عارف کلمہ کے لئے ہے، نہ کہ آ ئل کلمہ کے لئے۔ قول اور معرفت دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ قول کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ کے الفاظ کو بس زبان سے دہرایا جائے۔ اس کے برعکس معرفت یہ ہے کہ کلمہ کی حقیقت دل میں اتر جائے ۔ آدمی دریافت کے درجہ میں اس کا ادراک کر لے ۔ یہی دریافت والا ایمان وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader