Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے دل میں یہ غیر معمولی کیفیت کیسے پیدا ہوئی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ بندوں کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔ اس لئے اس نے مجھ سے ان کے حق میں اس طرح دعائیں کرائیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دعا قبول ہوگی اور رہندو قوم کے اعلیٰ طبقہ میں ہدایت کی ہوائیں چلیں گی، خواہ میری زندگی میں ایسا ہو یا میرے مرنے کے بعد۔ ۱۹ فروری ۱۹۹۳ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۲۸ جنوری ۱۹۹۳) میں اس کے ایڈیٹر کے قلم سے ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں ایک رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بوسنیا میں سربوں کی ہم بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف اب پوری طرح کامیاب ہو چکی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بوسنیا کے مسلمان اپنی ۷۵ فیصد زمین کھو چکے ہیں۔ ان کے تقریباً ۱۵۰ ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ دو ملین مسلمان بیرونی ملکوں میں پناہ گزیں کے طور پر چلے گئے ہیں۔ ہزاروں افراد قیدی ہیں۔ ان کی اقتصادیات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں (دمر اقتصاد هم تدميراً كاملاً) وہ پہاڑی علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں جہاں زندگی سخت مشکل ہے۔ اسی کے ساتھ ان کی مسجدیں، ان کے مدرسے، ان کے اسلامی مراکز سب جلا کر خاک کر دئے گئے ہیں۔ بوسنیا کی کامل تباہی کے بعد اس کی فوری مدد کے لئے ۱۲۰ بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور یہ اتنی بڑی رقم ہے جس کی فراہمی نا ممکن ہے (وهو مبلغ يستحيل توفيره) الدعوۃ نے آخر میں لکھا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں نے جب آزادی کا اعلان کیا ۴۴ ملکوں نے اس کا اعتراف کر لیا تھا۔ مگر کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک نے بوسنیا میں اپنا سفارت خانہ نہیں کھولا۔ (صفحہ ۱۰) یہی حال آج دنیا کے اکثر حصوں میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ ہر جگہ اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔ کہیں مسلح اور کہیں غیر مسلح۔ مگر ہر جگہ ان کا نتیجہ صرف تباہی کی صورت میں اور حاصل شدہ مواقع کی بربادی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ صحیح تحریک وہ ہے جو نتائج کو سامنے رکھ کر شروع کی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page