Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

چیز ہے جو کسی شخص کو جنت میں داخلہ کے قابل بنائے گا۔" کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ 'جیسا عقیدۂ آدمی کے اندر جسارت پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی گناہوں کے لئے ڈھیٹ ہو جاتا ہے جبکہ معرفت والا ایمان آدمی کے اندر خوف کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ۲۸ جون ۱۹۹۳ ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آپ تمام علماء اور رہنماؤں سے الگ اپنا راستہ بنائے ہوئے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ یہ سب سے بڑا بہتان ہے جو میرے اوپر باندھا گیا ہے۔ میں ایک بال کے برابر بھی علماء امت سے ہٹا نہیں ہوں۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقبال کا ایک شعر ہے: خوار از مهجوری مست آن شدی شکوه سنج گردش دوران شدی تقریبا ہر سال سے تمام مسلمان اس شعر کو دہرارہے ہیں۔ کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں۔ حتیٰ کہ ہر عالم اور رہنما خود بھی اپنے لفظوں میں یہی بات کرتا رہا ہے۔ ہم نے بھی عین یہی بات کہی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ اقبال سے غصہ نہیں ہوتے اور ہم سے غصہ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک Applied way ہے ۔ اقبال نے اس بات کو مطلق طور پر کہا تھا، ہم نے اس کو منطبق طور پر بیان کیا۔ ہم نے مجمل کو مفصل کیا۔ ہم نے شاعرانہ اسلوب کو سائنٹفک اسلوب میں بدلا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ نا قابل فہم کو قابل فہم بنا دیا۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے الرسالمشن کے ذریعہ یہ استعلام کیا کہ فلاح و کامیابی کا جو نسخہ شاعرانہ اسلوب کی محدودیت کی وجہ سے آپ حضرات پر پوری طرح واضح نہیں تھا، اس کو نشر کے کامل اسلوب میں پوری طرح واضح کر دیا۔ یہ شکر خداوندی کا موقع ہے نہ کہ الزام تراشی کا۔ ۲۹ جون ۱۹۹۳ سورۃ الاحزاب (آیت (۳۲) میں ہے کہ یا نساء النبی لستن کا حد من النساء (اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ قدیم کتابوں میں اس کی تفسیر اس طرح کی جاتی ہے کہ فضل اور شرف میں تم اور دوسری عورتیں برابر نہیں ہو (یعنی فی الفضل والشرف)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page