Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

القرطبی ۱۴۷/۱۳ قدیم ذہین نے فوراً اس تفسیر کو مان لیا۔ اب صرف یہ بحث رہ گئی کہ مختلف صاحب فضیلت خواتین میں فضیلت کی ترتیب کیا ہے۔ چنانچہ غور و بحث کے بعد یہ ترتیب قائم کی گئی ـــــ مریم فاطمہ ، خدیجہ ، آسیہ (القرطبی ۸۳/۴) مگر آج کا ذہن ان تفسیروں کو اہمیت نہیں دے گا۔ کیوں کہ آج کا انسان فضیلت کی اصطلاح میں نہیں سوچتا، آج کا انسان سائنٹفک اصطلاح میں، بالفاظ دیگر حقیقت کی اصطلاح میں سوچتا ہے۔ اب چوں کہ یہ تفسیر جدید ذہن کو غیر اہم نظر آئے گی اس لئے وہ قرآن کو بھی ایک غیر اہم کتاب سمجھ لے گا۔ اس لئے آج ضرورت ہے کہ قرآن کی تفسیر وقت کی زبان میں کی جائے۔ مثلاً مذکورہ آیت کی تفسیر آپ اس طرح کریں کہ "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو" کا مطلب یہ ہے کہ تم مشن کی عورتیں ہو۔ پیغمبر کے گھر سے ایک مشن چلایا جا رہا ہے اور تم اس شنشری خاندان کے ممبر کی حیثیت رکھتی ہو۔ تم کو عام عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سنجیدہ اور زیادہ باوقار انداز میں رہنا پڑے گا، ورنہ لوگوں کی نظر میں خود مشن بے وزن ہو کر رہ جائے گا۔ مذکورہ آیت کی تفسیر اگر موخر الذکر انداز میں کی جائے تو آج کا انسان فوراً اس کو قبول کرلے گا۔ اور پھر قرآن بھی اس کو ایک اہم کتاب دکھائی دینے لگے گا۔ حالاں کہ دونوں تفسیروں کا مدعا ایک ہی ہے، صرف زبان اور اسلوب بیان کا فرق ہے۔ ۳۰ جون ۱۹۹۴ ۱۹۴۷ سے پہلے برصغیر ہند کے مسلمان ایک عظیم ملک کے باشندے تھے۔ اس کے بعد جو انقلابات آئے اس میں ہندوستانی مسلمان تین حصوں میں بٹ گئے۔ تینوں کی حیثیت الگ الگ تھی ۔ بھارت میں مسلمان گویا اکثریتی فرقہ کے ماتحت کر دیئے گئے۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں مسلمانوں کی حیثیت نیم آزاد قوم کی ہوگئی۔ کیوں کہ عملاً وہاں پنجابیوں کا غلبہ تھا۔ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کی حیثیت کامل آزاد قوم کی تھی۔ اس طرح برصغیر ہند کے مسلمانوں کو تین مختلف حیثیت میں رکھ کر آزمایا گیا۔ مگر تینوں کے تینوں اپنی آزمائش میں ناکام ہوگئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page