آغازِ کلام
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
بھارت کے مسلمانوں کو ہندوئوں کے مقابلہ میں داہی بناتا تھا۔ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو انصار مدینہ کی طرح اسلام کے عظیم تر مفاد کے لیے سیاسی ماتتی کو قبول کرنا تھا۔ پاکستان کو حکومتی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایک حقیقی مسلم معاشرہ بنانا تھا۔ مگر تینوں میں سے کوئی بھی اپنے ذمہ کا فرض ادا نہ کر سکا۔ تینوں کا کیس خدائی آزمائش میں ناکام ہو جانے کا کیس ہے نہ کہ خدائی آزمائش میں کامیاب ہونے کا کیس۔ یکم جولائی ۱۹۹۳ جس طرح حاکم ایک انتظامی لفظ ہے، اسی طرح خلیفہ بھی ایک انتظامی لفظ ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اسلامی اصطلاح نہیں۔ لسان العرب میں خلافت کا مطلب امارت بتایا گیا ہے۔ اور خلیفہ کے معنی السلطان الاعظم بتائے گئے ہیں۔ (۸۳-۹/۸۳) امتحان کی مصلحت کے تحت ہر آدمی کے لیے کچھ سامانِ مقدر کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض وہ لوگ ہیں جن کا امتحان سیاسی اقتدار دے کر لیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو خلیفہ کہا گیا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق، ایک کے بعد ایک مختلف قوموں کو صاحب اقتدار (خلیفہ) بنایا جاتا ہے۔ تاکہ اللہ دیکھے کہ اقتدار پا کر وہ کیسا عمل کرتے ہیں (یونس ۱۴) مسلمانوں سے پہلے خلافتِ ارضی کا یہ مقام رومیوں اور ایرانیوں کو ملا ہوا تھا۔ اس کے بعد خلافت میں تبدیلی ہوئی اور مسلمانوں کو یہ مقام عطا کیا گیا۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد برطانیہ اور فرانس کو یہ حیثیت دے دی گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ اس میں تبدیلی ہوئی اور اب امریکہ کو خلافتِ ارضی کا درجہ حاصل ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے یہ اسی طرح ہوتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ کچھ مسلمانوں نے غلط تعبیر کر کے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ خلافت ارضی مسلمانوں کا دائمی حق ہے۔ ان کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ سارے عالم کے خلیفہ بن کر خدا کے قانون کو خدا کی زمین پر نافذ کریں۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ اس کا قرآن یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ امام ابن تیمیہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ یہ کہنا ناجائز ہے کہ انسان خدا کا خلیفہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader