آغازِ کلام
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سال دہلی اور اس کے اطراف میں سخت ترین گرمی پڑی۔ درجہ حرارت ۵۰ ڈگری تک پہنچ گیا۔ بہت سے لوگ گرمی کی شدت سے مرگئے۔ ہر طرف پریشانی کا عالم تھا۔ آج پہلی بار مانسونی بارش ہوئی۔ اور سارا ماحول اچانک بدل گیا۔ گرم لو کی جگہ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے آنے لگے۔ دھوپ کی شدت کی جگہ خوشگوار موسم پیدا ہو گیا۔ پریشانی کے بجائے سکون کی کیفیت محسوس ہونے لگی۔ میں نے سوچا کہ ایسا ہی قیامت کے بعد ہو گا۔ موجودہ دنیا میں ہر طرف برائیوں کا طوفان جاری ہے۔ حساس اور با اصول انسان کے لئے اس دنیا میں ایک لمحہ کا سکون بھی حاصل نہیں۔ مگر جب اس دنیا کی عمر پوری ہوگی اور اللہ اور اس کے فرشتے براہ راست ظاہر ہوں گے ، اس وقت سارا ماحول اچانک تبدیل ہو جائے گا۔ زحمتوں کی دنیا ابدی طور پر رحمتوں کی دنیا بن جائے گی۔ ۳ جولائی ۱۹۹۳ مولانا امیر اللہ خاں اور مولانا اکبر الدین قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ آج وہ دونوں اور مولانا مصلح الدین صاحب دیوبند سے دہلی آنے کے لئے شالیمار ایکسپریس میں سوار ہوئے۔ یہ سیکنڈ کلاس تھری ٹائر کی بوگی تھی۔ پوری بھری ہوئی تھی۔ دروازہ کے پاس کی سیٹ پر ایک بوڑھی ہندو خاتون پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس نے تلخی کے انداز میں کہا کہ آگے جاؤ، آگے جاؤ۔ مولانا امیر اللہ قاسمی نے کہا: ماتا جی آگے بھی سب بھرا ہوا ہے۔ "ماتا جی" کا لفظ اس بوڑھی خاتون کے لئے جادو ثابت ہوا۔ اس کا موڈ بالکل بدل گیا۔ اس نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے اور مولانا امیر اللہ خاں صاحب کو اپنے پاس جگہ بنا کر بٹھا لیا۔ اس کے بعد لوگوں سے کہہ کر ان کے بقیہ دو ساتھیوں کے لئے بھی جگہ نکالی اور اس طرح تینوں کو سیٹ پر بٹھا دیا۔ ان لوگوں کے ساتھ سامان بھی تھا۔ ان کے ایک ایک سامان کو بتا بتا کر صحیح طریقہ سے رکھوا دیا۔ دہلی تک وہ ان لوگوں کے ساتھ "مادر مہربان" بنی رہی۔ حالانکہ یہ ہندو خاتون جموں سے آرہی تھی اور وہاں اس نے مسلمانوں کے مظالم ہندوؤں پر دیکھ رکھے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader