آغازِ کلام
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
خود ٹرین میں بھی وہ بی بی آر پی کے ایک جوان سے کشمیر ہی کے بارہ میں گفتگو کر رہی تھی۔ ہندو خاتون کے اس مہربان رویہ سے پورے کیبن کی فضا بدل گئی ۔ لوگ ان تینوں مسلمانوں کو وحشت کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ اب وہ ان کو ہمدردی کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ۴ جولائی ۱۹۹۴ ابن خلدون (۱۳۰۶-۱۳۳۲) نے لکھا ہے کہ بدوی اور وحشی قوموں میں شجاعت زیادہ ہوتی ہے، اس لئے وہ ان قوموں پر غالب آ جاتی ہیں جو شہری زندگی گزارتی ہوں۔ کیوں کہ شہری نعمتوں میں ایک عرصہ تک رہنے سے ان میں کمزوری اور سستی آجاتی ہے۔ اس کو انہوں نے اپنی مخلوقات میں خدا کی سنت قرار دیا ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون، صفحہ (۱۳۸ - ۳۹ ابن خلدون کا زمانہ اب سے چھ سو سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس وقت عضویاتی طاقت ہی اصل طاقت تھی ۔ مگر موجودہ زمانہ میں ابن خلدون کا یہ کلیہ رد ہو چکا ہے۔ اب دنیا جسمانی طاقت کے دور سے نکل کر ذہنی طاقت کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب مشین نے دستکاری کی جگہ لے لی ہے۔ اب دستی ہتھیاروں کے بجائے دور مار ہتھیاروں کا زمانہ آ گیا ہے۔ ابن خلدون نے یہ بات مستقبل سے عدم واقفیت کی بنا پر کہی۔ قرآن جو خدا کا کلام ہے اس میں وحشت کے بجائے قوت کو اہمیت دی گئی ہے۔ جو چیز کسی دور میں قوت کی حاصل ہو، وہ فیصلہ کن ہوگی۔ ۵ جولائی ۱۹۹۴ ڈاکٹر عبدالحلیم عویس (قاہرہ) دہلی آئے۔ یہاں سے وہ لکھنؤ اور بنارس گئے۔ واپسی میں ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کے بارہ میں آپ مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہندو حکومت کے ساتھ ہیں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میں نہ ہندو کے ساتھ ہوں اور نہ مسلمان کے ساتھ ۔ میں حقیقت پسندی کے ساتھ ہوں۔ اس وقت کشمیر کے مسلمان انڈیا کے خلاف جو لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں، وہ حقیقت پسندی کے سراسر خلاف ہے۔ ہر حال میں اس کا انجام مسلمانوں کی ایک طرفہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لئے میں اس کا ناقد ہوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader