آغازِ کلام
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کسی کا حامی ہوں اور نہ کسی کا مخالف ہوں۔ مگر یہ لڑائی چوں کہ سراسر بے دانشی کی لڑائی ہے اس لئے میں اس کی تائید نہیں کرتا۔ ہندوستان کے مسلم دانشوروں نے ۴۷-۱۹۳۷ سے پہلے پاکستان کے قیام کی تائید کی ، حالاں کہ پاکستان کے قیام کا سب سے بڑا نقصان انھیں ہندوستانی مسلمانوں کو ملنے والا تھا۔ اب کشمیر کے معاملہ میں وہ دوبارہ یہی غلطی کر رہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان عام طور پر کشمیر کی تحریک آزادی کے حامی ہیں۔ حالاں کہ کشمیر اگر انڈین یونین سے الگ ہو جائے تو اس کی نہایت بھاری قیمت ہندوستانی مسلمانوں کو ادا کرنی پڑے گی۔ پاکستان کے قیام سے ہندوستانی مسلمان اگر ۵۰ فیصد بے وزن ہو گئے تھے ، تو کشمیر کی علیحدگی کے بعد وہ اس ملک میں سو فیصد بے وزن ہو جائیں گے۔ ۶ جولائی ۱۹۹۳ ۵۔ ۶ جولائی کو میں شملہ میں تھا۔ وہاں مولانا ممتاز احمد قاسمی وغیرہ کو میرے بارے میں سخت غلط فہمیاں تھیں۔ ۶ جولائی کی شام کو مسز سونیا گاندھی کی طرف سے وائسرایئل لاج میں شاندار ڈنر تھا۔ میں اس کو چھوڑ کر شام کو مولانا ممتاز احمد صاحب کے یہاں چلا گیا۔ وہ ایک مسجد کے امام ہیں۔ ہماچل پردیش میں دینی سرگرمیوں کے لئے یہ مسجد مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسجد سے متصل ایک مکان میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ مولانا قاسمی نے خواہش ظاہر کی کہ شام کا کھانا میں ان کے ساتھ کھاؤں۔ میں نے کہا کہ میں اس شرط پر کھاؤں گا کہ آج جو کچھ آپ کے یہاں پکا ہے ، بس وہی آپ مجھ کو کھلائیں۔ اس میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہ کریں۔ اصرار کے بعد وہ راضی ہو گئے۔ مغرب کی نماز کے بعد بہت سے لوگ یہاں جمع ہو گئے۔ عشاء کی نماز کے بعد تک ان لوگوں سے باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے اپنی گاڑی واپس کر دی اور رات کو مسجد کے ایک کمرہ میں سو گیا۔ اگلے دن فجر کی نماز کے بعد مولانا اتسی کے گھر سے صبح کی چائے آئی۔ میں نے کہا کہ آپ ناشتہ کے لئے کوئی اہتمام نہ کریں۔ شام کی پکی ہوئی روٹی لے آئیں ۔ چائے کے ساتھ اس کو کھا لیا جائیگا اور بس یہی آج کا ناشتہ ہو گا۔ تعجب انگیز خوشی کے ساتھ انھوں نے اس کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد ان کی غلط فہمیاں اپنے آپ دور ہو گئیں۔ میرے بارہ میں غائبانہ طور پر لوگ عجیب عجیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader